اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے آیت اللہ علی رضا اعرافی کے حمایت آمیز پیغام پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایران کے حوزاتِ علمیہ کی جانب سے حزب اللہ، اسلامی مقاومت لبنان اور لبنانی عوام کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ لبنان اس وقت ایک جارح دشمن یعنی اسرائیلی رژیم کا سامنا کر رہا ہے، جو امریکہ کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ خطے میں اپنی قبضہ گیری کو وسعت دینا اور اقوام کے مستقبل پر تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے اسرائیل کے ساتھ ماضی کی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقاومت نے سن 2000 میں اسرائیل کو جنوبی لبنان سے پسپا ہونے پر مجبور کیا جبکہ 2006 کی 33 روزہ جنگ میں بھی اسرائیلی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا۔
انہوں نے 2024 کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں سید حسن نصر اللہ سمیت کئی کمانڈر اور مجاہدین شہید ہوئے، تاہم اس کے باوجود مقاومت نے مختلف عسکری کارروائیوں کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ جاری رکھا۔
شیخ نعیم قاسم نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1982 میں امام خمینیؒ کی ہدایت پر حزب اللہ کے قیام کے بعد سے جمهوری اسلامی ایران مسلسل مقاومت کی حمایت کرتا آ رہا ہے، جبکہ رہبر انقلاب اسلامی کی قیادت اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، خصوصاً نیروی قدس کی مدد نے مقاومت کو مضبوط بنانے اور جنوبی لبنان کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے خطے کے عوام کے عزت و وقار اور حقوق کے دفاع کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو محورِ مقاومت کو کمزور کرنے اور فلسطین و قدس کی حمایت روکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج کی استقامت اس محاذ میں کامیابی کا سبب بنے گی۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جمهوری اسلامی ایران اور خطے کی تمام مقاومتی قوتوں کی مدد فرمائے اور خصوصاً فلسطینی عوام سمیت خطے کے مظلوم عوام کی مشکلات کا خاتمہ ہو۔
آپ کا تبصرہ