اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا اعلان پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کیلئے مشترکہ چیلنج ہے۔ ماضی کی غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔
دہشت گردی کا کوئی فوری حل نہیں، اس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ صرف فوجی کارروائی مسئلے کا حل نہیں، دہشت گردی کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ افغانستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور اتحاد پاکستان کیلئے اہم ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں افغان صدر نے افغانستان کی تعمیر نو اور بحالی میں مدد دینے پر صدر زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے باہمی رابطے اور تجارت کے فروغ کیلئے شراکت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں توانائی کے شعبے میں نئے منصوبے اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
صدر زرداری نے کہا ہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس سے اقتصادی تعاون بڑھے گا۔ تیس لاکھ افغان مہاجرین بدستور پاکستان میں موجود ہیں جو جلد اور امن کے ساتھ اپنے وطن جاسکیں گے۔ ملاقات میں پاک افغان ہم آہنگی بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
152/