17 مئی 2010 - 19:30

حوزہ علمیہ قم کے سربراہ نے کہا: حوزہ علمیہ قم اور جامعۃاالازھر کو اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے متحدہ محاذ تشکیل دینا چاہئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ مقتدائی نے مصری روزنامے "الاہرام" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: امریکہ اور صہیونی صرف شیعہ یا صرف سنی کے دشمن نہیں بلکہ وہ اسلام کے وجود اور اصل و اساس کے دشمن ہیں اور اس بڑے دشمن کے مقابلے میں ایک ہی صف کی تشکیل از حد ضروری ہے۔
انھوں نے کہا: جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صدر اول میں مسلمانوں کے درمیان مواخات اور برادری کا عقد جاری کیا اسی طرح ہم پر بھی لازم ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ اور اخوت قائم کریں اور عالم اسلام کے مسائل کی ترجیح بندی کریں اور ان سب امور کا نفاذ کریں جن میں اسلام اور تمام شیعہ سنی مسلمانوں کا فائدہ ہو۔
جامعۃالمصفی العالمیۃ ٹرسٹ کے رکن اور حوزہ علمیہ قم کے سربراہ نے کہا: میں االازھر کے لئے خاص احترام کا قائل ہوں؛ اس عظیم ادارے کے علماء اور اساتذہ معتدل پسند سمجھے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی بزرگ علماء نے تشیع کے دفاع اور اہل تشیع پر لگائے گئے الزامات کی تردید کے سلسلے میں کتابیں تحریر کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی علمی مراکز کے درمیان تعاون اور علمی مبادلات عالم اسلام کے حق میں ہے اور حوزہ علمیہ قم اعلان کرتا ہے کہ جامعۃاالازھر کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور اس تعلق اور تعاون کو مزید وسعت اور استحکام دینے کے لئے تیار ہے۔
آیت اللہ مقتدائی نے ایران کے حوزات علمیہ میں فکری حریت و آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ علمیہ کے بڑے اساتذہ کے فقہی دروس میں سنی علماء کی آراء بھی پیش کی جاتی ہیں اور ان پر آزادانہ بحث ہوتی ہے۔
انھوں نے ایران کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے سلسلے میں امریکی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض عناصر نے سنی اکابرین کی توہین کے حوالے سے بعض علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کئے ہیں تا کہ سنی برادران کو اہل تشیع سے بدظن کیا جائے اور حوزہ علمیہ قم نے اس سلسلے میں شیعہ اور سنی عوام سے ہوشیاری اور بیداری کی درخواست کی ہے اور عوام کو بتایا ہے کہ یہ دشمنان اسلام کی سازش ہے۔
........................
110