بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بحری ٹریفک پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے UKMTO نے اعلان کیا کہ جہاز فجیرہ سے 78 میل کے فاصلے پر نشانہ بنا۔
کچھ ذرائع نے کہا تھا کہ اس جہاز کو ایران کا جہاز شکن میزائل لگا ہے کیونکہ اس نے ایرانی افواج کے انتباہ کو نظر انداز کیا تھا لیکن اس خبر کی تصدیق نہيں ہو سکی۔
برطانوی ادارے نے بھی کہا ہے کہ اس تیل بردار جہاز کو ایک انجانا پروجیکٹائل لگا ہے اور کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہيں کی ہے۔
ادھر ایک اماراتی تیل بردار جہاز "M/T Eureka" جو آٹھ روز قبل غیر قانونی طور پر تیر کر نکلا تھا، لیکن باب المندب سے گذر کر صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہتھے چڑھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، اس جہاز کو یمن کے ساحلی علاقے شبوہ سے اغوا کیا گیا ہے۔
یہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بحیرہ احمر میں اماراتی جہازوں کو پیش آنے والا اسی نوعیت کا چوتھا واقعہ تھا کہ کو اغوا کیا گیا۔
کچھ ذرائع ان واقعات کی ذمہ داری صومالیہ کے بحری قزاقوں پر ڈال رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ یہ انصار اللہ یمن کے قریبی افراد کا کام ہے؛ لیکن اب تک کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ