17 مئی 2010 - 19:30

بدنام زمانہ قاتل، شرپسند اور دہشت گرد عبدالمالک ریگی نے اپنے ابتدائی اعترافات میں کہا ہے کہ امریکی سی آئی اے تمام ایران مخالف تنظیموں کی حمایت کرتا ہے / امریکی کمانڈر نے مجھ سے کہا: ہمارا مسئلہ القاعدہ اور طالبان نہیں بلکہ ایران ہے!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کالعدم دہشت گرد ٹولے نام نہاد جنداللہ کے سرغنے عبدالمالک ریگی نے پریس ٹی وی سے نشر ہونے والے اپنے ابتدائی اعترافات میں کہا: امریکی ایجنٹوں نے دبئی میں مجھ سے کہا کہ اس وقت ہمارا موضوع اور مسئلہ صرف ایران ہے.ریگی نے کہا: سی آئی اے کے اہلکار تمام ایران مخالف تتظیموں کی حمایت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران پر امریکی حملہ بہت دشوار ہے.ریگی نے مزید کہا: دبئی میں امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئی اے نے مجھے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا تھا اور وہ مجھے ایران کے قریب ہتھیاروں سے لیس ایک فوجی اڈہ دینا چاہتے تھے اور یہ فوجی اڈہ بیشکک کے قریب واقع مناس کے علاقے میں بنایا جانا تھا. ریگی نے کہا: دبئی میں سی آئی اے والوں نے مجھ سے واضح طور پر کہا: اس وقت ہمارا مسئلہ طالبان اور القاعدہ نیٹ ورک نہیں ہے بلکہ مسئلہ ایران ہے کیونکہ ایران اپنے راستے پر بغیر رکے آگے کی طرف گامزن ہے. اسی وجہ سے سی آئی ایران مخالف تنظیموں کی حمایت کرے گی اور ان تنظیموں سے امریکیوں کی مراد وہ تنظیمیں ہیں جو ایران کو چیلنجوں سے دوچار کرسکتی ہیں کیونکہ ایران پر امریکہ کا فوجی حملہ بہت دشوار ہے۔ دہشت گرد ٹولے کے سرغنے نے کہا: سی آئی اے نے جنداللہ کو اس قسم کی حمایت کا مستحق قرار دیا تھا اور ان کے خیال میں یہ تنظیم ایران کے لئے اہم مشکلات کھڑی کرسکتی تھی۔ ریگی نے کہا: امریکہ میں صدارتی انتخابات (اور اوباما کے انتخاب) کے بعد امریکیوں نے کوئٹہ میں مجھ سے رابطہ کیا جبکہ ایک بار بش کے زمانے میں بھی مجھ سے ملے تھے۔ اس نے کہا یہ ملاقات کو زاہدان کے قریب ہونے والی جھڑپ کے بعد ہوئی تھی۔ریگی نے کہا: چند روز قبل امریکیوں نے مجھے دبئی کا دورہ کرنے کے لئے کہا اور میں نے کہا کہ میں اس شرط پر ملاقات کے لئے آؤں گا کہ امریکہ میری اور میرے گروہ کی حمایت کرے بصورت دیگر میں ملاقات نہیں کروں گا چنانچہ امریکیوں نے مجھے یقین دلایا کہ ہمارے مسائل حل کرے؛ ہمارے قیدیوں کو رہا کروادے؛ اور ہمیں مالی اور فوجی امداد فراہم کردے۔ انھوں نے مجھے افغانستان میں ایک فوجی اڈہ دینے کا یقین دلایا اور کہا کہ مجھے کافی مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی فراہم کریں گے۔ ریگی نے کہا: میں نے اس ملاقات کے لئے اپنا ایک دوست دبئی بھجوایا تھا؛ میں افغانستان یا کسی دیگر ملک میں ایک پر امن اڈے کا خواہاں تھا چنانچہ انھوں نے جواب دیا تھا کہ وہ یہ مسئلہ حل کریں گے اور میرے لئے حاجی ریگی کے عنوان سے جگہ ڈھونڈ کر دینے کا یقین دلایا تھا اور میری ذاتی سلامتی کی ضمانت دیں گے۔ ریگی نے کہا: امریکیوں نے ہمیں بتایا کہ قرغیرستان کے علاقے "مناس" میں ایک امریکی اڈہ ہے جو وہ میرے سپرد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریگی نے کہا: امریکیوں نے مجھ سے کہا: دبئی میں امریکیوں نے مجھ سے کہا کہ طے یہ پایا ہے کہ میں اسی اڈے میں ایک اعلی امریکی اہلکار سے ملاقات کروں۔ یادرہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ریگی قرغیزستان لے جایا جارہا تھا اور مناس کے اڈے میں امریکی نائب صدر رچرڈ ہالبروک اس کا انتظار کررہا تھا!!!ریگی نے دبئی میں امریکی ایجنٹوں کے حوالے سے اعتراف کیا: اس وقت ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی حملہ زیر غور نہیں ہے اور واشنگٹن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی آپشن قابل عمل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس ملک کا ان طریقوں سے مقابلہ کیا جائے چنانچہ وہ میرے گروپ کے حوالے سے حساس ہوچکے تھے اور مجھے ہر قسم کی امداد دینے کے حامی بھررہے تھے. ان کا کہنا تھا کہ وہ میرے گروہ کو ہر قسم کی فوجی اور جاسوسی و دہشت گردی کی تربیت دینے کے لئے تیار ہیں. ریگی نے کہا: امریکیوں نے وعدہ دیا تھا کہ میرے ماتحت دہشت گردوں کو ٹیلیفون اور وائرلیس کنٹرول کرنے، کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجیوں کے استعمال کی تربیت دیں گے۔ .........................../110 متعلقه لنک:

ـ ریگی رچرڈ ہالبروک سے ملنے کرغیستان جا رہا تھا،امریکی صحافی