اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے ون پاکستان ویب سائٹ onepakistan کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ آٹھ سال قبل افغانستان میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 213 برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 2812 فوجیوں اور سویلین کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ان میں فوجی ایکشن کے دوران زخمی ہونے والے 822 سپاہی بھی شامل ہیں جن میں ایک تہائی شدید زخمی ہوئے، 51 کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے اور 56 کی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹی، مزید درجنوں سپاہیوں کو خوفناک زخم آئے، سر اور چہرے جل گئے اور دماغ کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ ملٹری چیفس ہر دو ہفتے کے بعد افغانستان میں ہونے والے انسانی نقصانات کی تعداد بتاتے ہیں لیکن وہ زخمی ہونے والوں کے زخموں کی تفصیلات بتانے سے گریزاں ہیں۔ اپاہج ہونے والوں میں پیراٹروپر 25 سال بن پارکنسن بھی شامل تھا جس کی دونوں ٹانگیں اور ایک بازو 2006ء میں بارودی سرنگ کے دھماکے سے اڑ گئے۔ موجودہ سال افغانستان میں تعینات برطانوی افواج کے لئے بدترین رہا۔ پہلے چھ ماہ کے دوران 76 سپاہی مارے گئے اور 45 شدید زخمی ہوئے جبکہ 2008ء کے پورے سال میں صرف 51 اموات ہوئیں اور 27 شدید زخمی تھے۔ نئے اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جبکہ وزیراعظم گورڈن براؤن مزید دو ہزار فوجی افغانستان بھجوانے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔ اینٹی وار گروپس اور بعض سیاستدانوں نے زخمی ہونے والے سپاہیوں کو ایسے افراد قرار دیا ہے جنہیں بھلا دیا گیا ہے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں اپنی افواج کے عرصہ تعیناتی کا اعلان کرے۔ لیبر ممبر پارلیمنٹ پال فلین نے کہا کہ زخمی ہونے والے فوجی مستقبل میں ہمیشہ تکلیف کی زندگی گزاریں گے ہم اس جنگ کو ہر طرح سے ہار چکے ہیں اور اب کیا یہ مناسب ہے کہ ہم اپنے مزید جوانوں کو افغانستان میں مرنے اور زخمی ہونے کے لئے بھیجیں، وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان یہ تسلیم کر لیں کہ ہمارے اہداف ناممکنات میں سے ہیں اور امن کی راہ جتنی جلد اختیار کی جائے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ گزشتہ روز کے ایک سروے کے مطابق 49 فیصد برطانوی عوام نہیں سمجھتے کہ افغانستان کی مہم کے باعث برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت افغانستان میں نیٹو کی ایک لاکھ افواج ہیں جن میں 68 ہزار امریکی اور دس ہزار برطانوی ہیں۔ /110
17 مئی 2010 - 19:30
News ID: 179689
حال ہی میں ہلاک ہونے والے سکاٹش فوجی کارپورل جان ہیریسن کی موت کے ساتھ افغانستان میں ہلاک و زخمی ہونے والے برطانوی سویلین اور فوجیوں کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن پر افواج کی واپسی کے لئے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔