اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے ان کیمپوں میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عراق کے نہتے اور بے گناہ بچوں کی آبرورزیزی کا انکشاف کیا ہے.
ان ہی عقوبت کیمپوں میں اسیر «کاظم ہیلاس» نے "واشنگٹن پوسٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ امریکی فوجی وردی میں ملبوس شخص نے ـ جو ہیلاس کے خیال میں امریکی فوج کا مترجم تھا ـ والدین کے سامنے ایک نوعمر بچے کی آبروریزی کی.
ہیلاس نے کہا: انھوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو کاغذ کے ذریعے بالکل بند کررکھا تھا؛ میں نے بچے کی چیخ سنی اور دروازے کی اوپر چڑھا جہاں سے میں نے امریکی فوجی کو بچے کی آبروریزی کرتے دیکھا؛ بچہ بری طرح زخمی ہوگیا تھا جبکہ امریکی فوجی خواتین ہنسی خوشی تصویریں اتار رہی تھیں.
علاوہ ازیں اس کیمپ میں مسلمان مردوں اور عورتوں کی بھی آبروریزی کی جاتی ہے اور عراق اور افغانستان کی کیمپوں میں لی گئی تصاویر کی اشاعت سے امریکی صدر اوباما کا انکار بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ کہیں ابوغریب جیل کی طرح کی ایک نئی رسوائی امریکی افواج کا دامن نہ پکڑے.
دریں اثناء مغربی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کا ملزم ٹہرانے کی مسلسل کوششیں کررہے ہیں؛ اور اس سلسلے میں مسلمانوں کی جھوٹی تصویر دنیا والوں کو دکھانے پر بضد ہیں؛ اور یہ وہی حربہ ہی جس کے ذریعے وہ عراق اور افغانستان پر اپنی جارحیت کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پھر نام نہاد مغربی تہذیب کے نام نہاد مہذب نمائندے مسلم ملکوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بہانے انسانیت سوز ترین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں.
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی عراق کے علاوہ افغانستان میں بھی ایسے ہی انسانیت سوز مظالم و جرائم کی مرتکب ہورہے ہیں اور دنیا کے جس جس ملک میں بھی امریکی فوجی تعینات ہیں اس طرح کے واقعات مسلسل جاری رہتے ہیں اور کبھی کبھی یہ جرائم طشت از بام بھی ہوتے ہیں جیسا کہ کوریا اور جاپان میں بھی ایسے واقعات جرائد و اخبارات کے صفحات پر منعکس ہوتے ہیں اور ان کے خلاف مظاہرے اور جلسے جلوس بھی ہوتے ہیں مگر یہ سلسلہ بہر حال جاری ہے!!!
...........
/110
بعض تصاویر جو چند سال قبل ابوغریب جیل سے لی گئیں اور غاصبین و قابضین کی رسوائی کا سبب بنیں:
....

....

....

....
