20 فروری 2026 - 04:54
مکتبِ رمضان؛ انسان، معاشرے اور اسلامی انقلاب کے تہذیبی مشن کی تخلیقِ نو

مکتب رمضان میں، معنویت و روحانیت سیاست سے الگ تھلگ نہیں ہیں اور عبادت، معاشرے کی تقدیر سے منقطع نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی تقدیر ساز تبدیلیاں اسی مہینے میں رونما ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مہینہ رمضان المبارک، زندگی کے تمام جہتوں اور میدانوں میں عبادی توحید (عبادت میں توحید یا توحیدِ عبادت = یکتا پرستی اور صرف اللہ کی بندگی و عبادت) کا مکتب ہے تاکہ انسان کی تعمیر نو، معاشرے کی تشکیل و ترتیب، اور امت مسلمہ میں 'قربِ الٰہی کی بنیاد پر' تبدیلی لائی جا سکے۔ اس مکتب کی روح، محاسبۂ نفس، عزم و ارادے کو تقویت پہنچانے، میدان میں حاضر رہنے، الٰہی مشن کو سرانجام دینے اور ہمہ جہت نمو و ترقی کے حصول کی خاطر بڑی سماجی ذمہ داریوں سنبھالنے کے لئے تیار رہنے سے عبارت ہے۔ مکتب رمضان، روزے دار کو انفعالیت (Passiveness) اور ذمہ داریوں سے غفلت کی حالت سے نکال کر بیدار اور شعوری توحیدی فعالیت پر کاربند، مؤمنانہ نفس کا مالک اور معاشرے کی روحانی و نفسیاتی صحت میں مؤثر کردار ادا کرنے والا صابر و فعال تہذیبی و تمدنی انسان بنا دیتا ہے۔

قرآن کریم نے روزے کا مقصد "تقویٰ" قرار دیا ہے۔ تقویٰ، ـ عام طور پر ہونے والے تراجم کے برعکس، ـ محض پرہیزگاری نہیں، بلکہ تقوائے جہاد و قتال اور اس سے بھی اہم ـ تقوائے پرہیز ـ ہے۔ مکتب رمضان میں، انسان اپنی نفسانی خواہشات، بے لگام عیش پسندی، دنیا طلبی، انفرادی منافع پرستی، مذموم اقتدارپرستی، شہرت پرستی، خود نمائی، غرور و خود غرضی، تکبر، حسد اور کینہ پروری کے خلاف لڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے اور  تقویٰ کے راستے میں روزے دار مؤمن کی مدد فرماتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی باگ ڈور سنبھال کر ہوس، گناہ، لغزش اور باطنی بے ضابطگی کے خلاف کھڑا ہونے کی طاقت حاصل کر لے۔ یہ باطنی محاسبہ، ہر پائیدار انفرادی اور اجتماعی طاقت و صلاحیت کی پہلی شرط ہے۔

روزہ؛ نفس پر قابو پانے اور مقاوم انسان پیدا کرنے کی مشق

روزے کی ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو کفِّ نفس (نفس پر قابو پانے) کا عادی بناتا ہے، یعنی نفسانی خواہشات کو "نہ" کہنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ خواہش جو بذات خود حلال ہو۔ روزہ انسان کو بے لگامی سے نجات دلاتا ہے، اس حالت سے جہاں نفسانی خواہشات، انسان سے راستے کے انتخاب کا اختیار چھین لیتی ہیں اور اسے لغزش، خطا اور زوال و تباہی کی طرف دھکیلتی ہیں۔ گناہ، بیرونی دشمن کی پیداوار ہونے سے زیادہ، باطنی بے لگامی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس انسان اپنے نفس پر قابو کھو دیتا ہے، وہ جلدی یا بدیر ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ اپنے راستے کا فیصلہ خود نہیں کرتا۔ رمضان المبارک بڑی خصوصیت اور الٰہی ضیافت پر وسیع دعوت ہے تاکہ کفِ نفس کی یہ صلاحیت پھر سے انسان کو مل سکے اور وہ صابر، ضبط نفس رکھنے والا اور ذمہ دار انسان بن سکے۔ اسی لئے روزے کو ڈھال قرار دیا گیا ہے؛ گناہ کی آگ، اخلاقی انحراف اور سماجی فرسودگی کے خلاف ڈھال۔ روزے کی ڈھال صرف آخرت کے لئے نہیں؛ بلکہ یہ اسی دنیا میں معاشرے کو بڑی لغزشوں سے بچا کر رکھتی ہے۔

صبرِ فعال: معنویت اور فرض شناسی کا باہمی رابطہ

مکتب رمضان میں صبر کا مطلب انفعالیت اور پسپائی نہیں ہے؛ صبر، بیدار اور فعال طور پر ڈٹے رہنے کا نام ہے۔ روزہ، "گناہ کے خلاف صبر" کا مظہر ہے اور یہی صبر وہ طاقت پیدا کرتا ہے جو انسان کو دشوار سماجی، سیاسی اور تاریخی میدانوں میں مقاوم اور ثابت قدم بناتی ہے۔ جو معاشرہ صبرِ فعال کا عادی ہو جائے، وہ دشمن کے دباؤ میں نہیں ٹوٹتا؛ فتنوں میں سرگرداں نہیں ہوتا اور خطرات کے وقت جلد بازی اور غلط اندازے کا شکار نہیں ہوتا۔ اسی لئے رمضان المبارک صرف انفرادی عبادت کا مہینہ نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی عقل و دانش اور سماجی عزم و ارادے کی تعمیر نو کا مہینہ ہے۔

رمضان: وہ مہینہ جس نے تاریخ بدل دی

مکتب رمضان میں، معنویت و روحانیت سیاست سے الگ تھلگ نہیں ہیں اور عبادت، معاشرے کی تقدیر سے منقطع نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی تقدیر ساز تبدیلیاں اسی مہینے میں رونما ہوئی ہیں۔

بدر: منظم ایمان کی فتح کا ابدی نمونہ

غزوہ بدر، بدکرداری اور فساد و برائی پر شعوری ایمان کی فتح؛ اور قریش کے متکبرین پر اللہ کی طاقت پر بھروسہ رکھنے والوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے پیروکاروں کے عزم و ارادے کی فتح، کا مکمل نمونہ ہے؛ ایک چھوٹا سا موحد اور منظم معاشرہ، الٰہی قیادت، نظم و ضبط، توکل، بصیرت اور غیبی امداد کے ساتھ اس وقت کی مادی طاقت سے لیس کئی گنا بڑی اور جدید فوج پر غالب آیا۔ غزوہ بدر نے دکھایا کہ فتح کا دارومدار اللہ کی طاقت پر بھروسہ، مؤمنین کی داخلی مضبوطی، الٰہی قیادت کی پیروی اور تقویٰ پر ہوتا ہے۔ جنگوں میں اگرچہ مادی وسائل اور ہتھیار اہم ہیں، لیکن ایمان، تقویٰ اور دعا جیسے ہتھیاروں کا کردار سرفہرست ہے۔

جو معاشرہ ایمان اور عمل صالح، حق و صبر کی تلقین، اور مؤمنانہ ایثار نیز باہمی ہمدردی کے فروغ کی بنیاد پر اپنے آپ کو اندرونی طور پر منظم کرتا ہے، اور زندگی کے تمام مراحل میں تقویٰ کو پیش نظر رکھتا ہے، وہ دشمنوں کے مقابلے میں مادی اور معنوی تیاریاں بھی کرتا ہے، طاقت بھی پیدا کرتا ہے اور کبھی بھی متکبر طاقتوں کی چمک دمک سے مرعوب و مغلوب نہیں ہوتا۔ مکتب رمضان میں تربیت یافتہ انسان، ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر اپنے نفس کا انتظام و انصرام کرتا ہے اور ولایت کی پیروی کرتے ہوئے، کمزوری کو طاقت اور خطرے کو موقع میں تبدیل کرتا ہے، اور توحیدی سماجی عزم کے ساتھ ہر جابر و ظالم دشمن، طاغوت اکبر اور شیطان بزرگ [بڑے شیطان = امریکہ] پر غلبہ پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مکتب رمضان اور آج کے انقلاب اسلامی کی پوزیشن

آج عظیم قوم ایران، امریکہ، صہیونی ریاست، ان کے ایجنٹوں، فتنہ پروروں، دراندازوں اور دشمن کے منصوبے میں پھنسے دنیا پرست مرتدین کے ساتھ ایک مکمل مخلوط جنگ (Hybrid warfare) میں مصروف ہے۔ 12 روزہ جنگ اور امریکی صہیونی "نیم بغاوت" (Semi coup) کے فتنے کو عوام کے صبر، مقاومت، بصیرت، قربانیوں، میدان میں موجودگی اور جان نثار شہیدوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حکمت، شجاعت اور رہنمائی سے ناکام بناکر پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج ہمیں بیانیوں کی جنگ، اقتصادی دباؤ، نفسیاتی کارروائیوں، پابندیوں اور علاقائی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

مکتب رمضان کے تین تزویراتی اور فوری پیغامات ہیں:

1۔ معاشرے کی معنوی طاقت کی تعمیر نو اور مضبوطی کی ضرورت

ماہ رمضان المبارک قرآن کریم کی نورانی ہدایات، بہترین حل کی طرف رہنمائی اور تمام میدانوں میں کشادگی کا مدرسہ ہے۔ فعال اور تزویراتی صبر و مقاومت، نفس پر قابو پانا، اور سماجی و سیاسی صلاحیتوں کی تعمیر و تقویت، اس تہذیبی مشن پر ـ مشکل گھاٹیوں کو عبور کرنے کے لئے، ـ ایران کی صابر و شاکر قوم  کا توشہ ہے۔ جو معاشرہ اس باطنی سرمائے کو بحال کر لے، وہ کسی بیرونی دباؤ سے مغلوب نہیں ہوتا۔

2۔ انفرادی معنویت سے سماجی ذمہ داری تک

حقیقی روزہ داری، صرف کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں ہے۔ لاتعلقی، غیر ذمہ داری، سماجی اور انتظامی سستی، کوتاہی، بداخلاقی سے پرہیز اور دوسری جانب ایمانی فضائل، ہمدردی، باہمی تعاون اور مؤمنین و محرومین کی خالص خدمت کے جذبے کو تقویت دینا، ماہ رمضان میں اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نقطہ نظر، سماجی سرمائے کی بحالی، باہمی یکجہتی اور داخلی استحکام کا ضامن ہے۔

3۔ ماہ رمضان المبارک، نمو و ارتقاء کا آغاز

ماہ رمضان المبارک خودسازی، معاشرہ سازی اور امت سازی کے راستے کا آغاز ہے۔ ایسا راستہ جو نفس کو لگام دیئے بغیر، تقویٰ کے بغیر اور صبرِ فعال کے بغیر منزل مقصود تک نہیں پہنچتا؛ چنانچہ بہت بہتر ہے کہ ہم اس مہینے میں قرآن سے اُنْسِیَّت پیدا کریں اور نورانی ہو جائیں، کم از کم روزانہ قرآن کریم کے اس پارے کی تلاوت کریں اور ماہ مبارک میں کم از کم ایک مرتبہ پورا قرآن ختم کریں اور اس کی تلاوت کا ثواب اپنے والدین، مرحومین اور اپنے عظیم شہداء بطور ہدیہ، پیش کریں۔ امام زمانہ (علیہ السلام) کو یاد رکھیں، اپنے مولا و آقا سے معرفت، محبت اور توسل میں اضافہ کریں تاکہ شب قدر کا بخوبی ادراک کریں۔ ایمان کی گہرائی، اسلامی تعلیمات و معارف کے حصول اور ماہ مبارک کی مؤثر مجالس و محافل سے استفادہ کرنے میں کوشاں رہیں، بصیرت افزائی پر منتج ہونے والے کاموں میں محنت کریں۔ نیٹ ورکنگ اور عوامی رابطوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے جیسے کاموں کو بھی اپنے پروگراموں میں شامل کریں اور اجتماعی افطار کا اہتمام کریں اور اس طرح کے افطاروں میں حصہ لیں اور بہت ضروری ہے کہ محرومین اور مستضعفین کو خدمات فراہم کریں۔

ماہ رمضان میں جہادی کیمپوں کا دوہرا اثر ہوتا ہے۔ معاشرے کو پارہ پارہ کرنے کی دشمن کے منصوبوں کے مقابلے میں سماجی اتحاد و یکجہتی کو مضبوط کریں اور تفرقہ و انتشار اور باہمی جھگڑوں سے سختی سے پرہیز کریں۔ ہر صوبے، شہر، گاؤں اور محلے کے بزرگ، اجتماعی اختلافات کے حل کو اپنے کاموں میں شامل کریں۔

نیز ضروری ہے کہ مسجد کو خاص طور پر اپنی سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں، مساجد میں بھرپور انداز سے موجود رہیں، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کی رہنما اصولوں پر عمل درآمد کریں، اور انقلابی مشنوں کے میدان میں سرگرم رہیں، اسلامی انقلاب کی بلند اقدار کے تحفظ، ترقی و فروغ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کی حفاظت میں اپنا جہادی فریضہ ادا کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات:

"ماہ رمضان انسان کے دل و جان کے متقی بننے کے لئے ہے؛ یہ ایک توحیدی حقیقت ہے جو دلوں اور انسانوں کو خدائے متعال سے قریب کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان، خدا سے قربت کا میدان اور معنوی تجدید حیات کی وعدہ گاہ ہے؛ یعنی خدائے متعال نے ماہ رمضان کے روزے کو فرض قرار دے کر مجھے اور آپ کو ایک موقع دیا ہے کہ ہم سال بھر میں ایک پورا مہینہ یہ موقع حاصل کریں کہ اپنے دلوں کو دھو لیں، خود کو پاک کریں اور اگر ہو سکے تو خود کو آلائشوں سے نکال کر توحیدی بنا لیں۔ ماہ رمضان کے روزے، ماہ رمضان میں قرآن سے اُنْسِیَّت، ماہ رمضان کی شب قدر، ماہ رمضان میں توسلات، راز و نیاز اور آہ و زاری اور دعائیں، یہ سب انسان ساز ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ماہ رمضان، اللہ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ ہر کوئی جس قدر ماہ رمضان کے آداب کا لحاظ رکھے اور عمل کرے، اسی قدر اس کے دل، اس کی جان اور اس کے باطن کی تعمیرہوتی ہے اور انسان توحیدی بنتا ہے۔"

ارشاد رب متعال نے ارشاد فرمایا: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ؛ یہ رمضان کا مہینہ تقویٰ کے لئے ہے، انسان کے دل و جان کے متقی ہونے کے لئے ہے۔" (خطاب بمورخہ 31 مارچ 2025ع‍)

"شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ * وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔" (2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: آیت اللہ عباس کعبی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha