14 فروری 2026 - 03:45
حصۂ اول | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع‍ میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز

دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز کہتے ہیں: امریکہ کی سابقہ جمہوریاؤں کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی موجودہ سلطنت ـ اپنے بنیادی بیانیے ـ یعنی اسرائیل کے وجود ـ کے ساتھ [مل کر] عنقریب اختتام پذیر ہوگی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

دینیات کے امریکی محقق، مصنف، جریدہ "ثقافتی جنگیں" کے چیف ایڈیٹر ای۔ مائیکل جونز (E. Michael Jones) نے اس سیمینار کے مقرر کے طور پرکہا:

جیسا کہ اسٹراؤس اور ہاؤ (William Strauss and Neil Howe) کہتے ہیں کہ انسانی تاریخ کو کئی مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ہر مرحلہ 80 سال تک جاری رہ سکتا ہے، اس نظریئے کے مطابق، امریکہ تین جمہوریاؤں میں تقسیم ہوتا ہے: پہلی جمہوریہ سنہ 1881ع‍ میں امریکی آئین کی اشاعت کے ساتھ، شروع ہوئی۔ وہ جمہوریہ 80 سال بعد شمال اور جنوب کے درمیان شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز پر اختتام پذیر ہوئی۔

حصۂ اول | امریکی انقلابیوں نے ثابت کیا ہے کہ "امریکہ بڑا شیطان کیوں ہے"، / اسرائیل 2028ع‍ میں ختم ہو جائے گا، ای مائیل جونز

دوسری جمہوریہ سنہ 1865ع‍ میں خانہ جنگی کے خاتمے پر شروع ہوئی۔ اس مرحلے میں ریاستیں اپنی خودمختار حیثیت کھو گئیں اور وفاقی حکومت کے شعبے بن کر رہ گئے۔ غلام پروری (Slavery)  ـ اہم ترین محکمہ ـ سمحھی جاتی تھی، جو پہلی جمہوریہ کے اختتام پر ختم ہؤا۔ دوسری جمہوریہ اس وقت زوال پذیر ہوئی جب امریکہ دوسری عالمی جنگ سے فاتح ہوکر عہدہ برآ ہوئی۔ تیسری جمہوریہ نے امریکی سلطنت [American Empire) کی بنیاد رکھی۔ اس "سلطنت کا ساختی افسانہ" "ہولوکاسٹ کا بیانیہ" تھا، جو امریکہ کو کسی بھی ملک میں مداخلت کی اجازت دیتا تھا؛ کیونکہ یہ امریکہ مبینہ طور پر "مظلومین کے لئے آزادی" کا تحفہ لا رہا تھا!

سلطنت امریکہ کے قیام کے کچھ عرصہ بعد، سنہ 1953ع‍ میں، سی آئی اے نے ایران میں وزیر اعظم محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نفسیاتی جنگ کی روشوں سے استفادہ کرتے ہوئے شاہ کو ایک بار پھر اس ملک کے "نئے لیڈر" کے طور پر تعینات کیا؛ وہی روشیں جنہیں یہ [امریکی] سلطنت اگلے 70 برسوں کے دوران بھی دہراتی رہی۔ ان روشوں اور چالوں کا عروج یوکرین میں "اسکوائر" کے "رنگین انقلاب" میں دکھائی دیا جو کامیابی سے ہم کنار نہ ہوسکا اور یہ تیسری جمہوریہ کے تحت امریکی سلطنت کے پھیلاؤ کا نقطۂ اختتام تھا۔ اس وقت امریکی سلطنت والی جمہوریہ کے قیام کے 80 سال ہو چکے ہیں اور تیسری جمہوریہ بھی نقطۂ اختتام کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا بنیادی افسانہ یعنی"ہولوکاسٹ" [کا بیانیہ] بھی اختتام پذیر ہو چکا ہے۔

اس افسانے کے اختتام کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طاقت اور اسرائیلی ریاست کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے جو تین سال بعد 80 سال کی ہو رہی ہے؛ جبکہ۔ سابق صہیونی وزیر اعظم ایہود باراک نے دعویٰ کیا کہ "یہودیوں کی کوئی بھی بادشاہی 80 سال سے زیادہ نہیں چل سکی ہے۔" ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہودی حال ہی میں قبرص کی طرف نقل مکانی کرنے لگے ہیں اور یہ نقل مکانی اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ باقی اسرائیلیوں کا بھی یہی خیال اور یہی ارادہ ہے۔ اسرائیلی قبرص میں وسیع پیمانے پر مکانات اور جائیداد خریدنے میں مصروف ہیں کیونکہ وہ اسرائیلی ریاست کے خاتمے کی پیش گوئی کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس ریاست کے دن گنے چا چکے ہیں اور اس کے زوال کی الٹی گنتی کا آغاز ہو چکا ہے۔ 

بہت سے تصورات، ادارے، ٹیکنالوجیز بیبی بومر (Baby boomers) کی نسل کی عمر کے دوران، ابدی اور دائمی نظر آتے تھے، اس وقت نابودی کے مرحلے میں ہیں۔ امریکہ کی پہلے نمبر کی ریٹیل اسٹورز "سیئرز اینڈ روبک" (Sears, Roebuck and Co.) 15 اکتوبر 2018 کو دیوالیہ ہوگئے اور "شاپنگ مال" کے تصور کو پرچون فروشی کی ٹیکنالوجی کی ایک منسوخ شکل کو اپنے ساتھ نیچے گرا دیا؛ وہ تصور جس کی جگہ ایمیزون (Amazon) نے لے لی۔ طیارہ بردار بحری جہاز اور ٹینک دو ایسے ہتھیار تھے جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یوکرین کی جنگ میں یہ ہتھیار ـ ڈرونز اور ہائپرسونک میزائلوں کے مقابلے میں ـ ناکارہ اور منسوخ ہو گئے۔

ڈابز بمقابلہ جیکسن ویمن ہیلتھ آرگنائزیشن" (Dobbs vs. Jackson Women's Health Department) کیس میں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد "یہودی-عیسائی اختلاق" کی اصطلاح بے معنی ہو گئی۔ اس فیصلے نے قانون "رو بمقابلہ ویڈ ((Roe v. Wade (1973)" کو منسوخ کر دیا۔ اور 400 یہودی تنظيموں نے اعلان کیا کہ "اسقاط حمل (Abortion)" "بنیادی یہودی قدر" ہے! یہ درحقیقت قدامت پسندی (Conservatism) کا خاتمہ بھی تھا؛ جنگ کے بعد کی سیاسی تحریک کا اختتام، جو "ولیم ایف۔ بکلی (William F. Buckley)" کی کتاب "خدا اور انسان ئیل میں (God and Man at Yale)" اور "رسل کرک (Russell Kirk)" کی کتاب "قدامت پسند ذہن (The Conservative Mind)" کی اشاعت سے شروع ہوئی تھی۔ کنزرویٹزم کی تحریک مزید موجود نہیں تھی؛ یہ تحریک کمیونزم کے گرنے کے بعد جان بچا کر نہ بھاگ سکی اور دو حصوں میں تقسیم ہو گئی: نو قدامت پسندی (Neoconservatism) ـ جو ایک یہودی تحریک تھی، اور پرانی قدامت پسندی (Paleo-conservatism) جو درحقیقت کنزرویٹزم پر یہودیوں کے تسلط سے نمٹنے کے لئے درمیانی-مغربی رد عمل (Mid-western re-action) کی تھا اور اس کا منشور "ٹام فلیمنگ (Tom Fleming)" اور "پال گاٹفرڈ (Paul Gottfried)" نے لکھا اور جریدہ "دی کرانیکلز (The Chronicles) نے اسے شائع کیا۔

اس کے باوجود، تیسری جمہوریہ کے زوال کا اہم ترین نشانہ "پروٹسٹنٹ مسیحیت (Protestantism)" تھی، جو ـ جیسا کہ یہ، [قدامت پسند امریکی سیاسی تجزیہ کار] ٹکر کارل سن (Tucker Carlson) نے حال ہی میں ٹیکساس کے سینیٹر تیڈ کروز (Ted Cruz) کے ساتھ انٹرویو میں واضح کیا کہ ایک طرف سے دائیں بازو میں صہیونی عیسائیت، اور دوسری طرف سے مرکزی دھارے کے فرقوں ـ بشمول " اسقفی نظام (یا اپسیکوپلزم  Episcopalism)" میں رائج ہمجنس پرستی کی حمایت ـ میں، منقسم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارلسن اپنے فرقے کے حوالے سے طعن آمیز قسم کی رائے رکھتے ہیں۔ اسقفی چرچ ـ جس میں کہ بائیڈن کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ پیٹ بٹگیگ (Pete Buttigieg) نے اپنے دوست لڑکے (BF) کے ساتھ شادی کر دی ـ نے قوس قزح والا پرچم لہرا کر اپنے ہلاکت خیز زوال کا آغاز کر دیا۔ یہ اقدام ـ انڈیانا ریاست (Indiana) کے شہر ـ ساؤتھ بینڈ (South Bend) کے ہمجنس پرستوں کی مختصر سی آبادی کے ووٹ کمانے اور پریسبیٹیرین (Presbyterians) اور میتھوڈسٹ (Methodist) عیسائیوں سے جان چھڑانے کی ایک بیہودہ کوشش، تھا جنہوں نے یہی تباہ کن حکمت عملی اپنائی تھی۔ صورت حال یہ ہے کہ فی الحال ایپیسکوپل چرچ نے "برائے فروخت" (For Sale) کا بورڈ لگایا ہؤا ہے اور سنہ 2025ع‍ ـ یعنی تیسری جمہوریہ کے 80 سال بعد ـ یہ بھی ختم ہو رہا ہے۔

جیسا کہ ایمانوئل ٹوڈ (Emmanuel Todd) اپنی کتاب "مغرب کی شکست (The Defeat Of The West)" میں اشارہ کرتا ہے پروٹسٹنٹ ازم امریکی تشخص کا خفیہ گرائمر [اور غیرتحریری قانون] ہے۔ امریکی سلطنت (American Empire) 80 سال قبل قائم ہوئی، اب یہ پروٹسٹنٹ ازم (Protestantism) کی غائب ہونے کے ساتھ شکست کھا رہی ہے۔ 

ٹوڈ (Todd) اپنے آپ کو "میکس ویبر (Maximilian [Carl Emil] Weber)" کا "اچھا شاگرد" سمجھتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتاتا کہ ویبر نے پروٹسٹنٹ ازم کا ادراک جان ملٹن [John Milton] کی کتاب "گمشدہ جنت (Paradise Lost)" میں پیورٹنز کا مہاکاوی" "Puritans’ epic" سے حاصل کیا ہے۔ اورلاندو ریڈ (Orlando Reade) اپنی کتاب " What in Me Is Dark" میں اشارہ کرتا ہے، "پروٹیسٹنٹ اخلاقیات وہی کچھ ہے جسے ویبر نے "گمشدہ جنت" میں دیکھا۔" ویبر پہلے حصے کے آخر میں اپنے مقالے (تھیسس) کے حتمی شاہد کے عنوان سے دانتے (دانتے_الیگیری Dante Alighieri) اور ملٹن کے درمیان موازنہ پیش کرتا ہے اور کہتا ہے: پیورٹنزم کی ڈیوائن کامیڈی (Divine Comedy)  گمشدہ جنت کے سوا کچھ نہیں ہے؛" کیونکہ ویبر نے گمشدہ جنت میں اسی اخلاقیات کو دیکھا جس  نے جدید سرمایہ داری کے لئے راستہ ہموار کر دیا۔ انسان فوری طور پر محسوس کرتا ہے کہ اس دنیا اور اس کی زندگی کو ایک ذمہ داری اور ایک امتحان کے طور پر قبول کرنے کے بارے میں ایک پیورٹن شخص کا یہ طاقتور اور مضبوط بیان، قرون وسطیٰ کے کسی مصنف کے قلم سے تخلیق ہی نہیں ہو سکتا۔ "حوا کی آدم کو یہ تجویز کہ "آیئے الگ الگ کام کرتے ہیں!"، کتان بنائی اور جدید معاشرے کے ظہور کے بارے میں ویبر کی ایک کہانی کی تمہید ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha