9 فروری 2026 - 16:06
لاڑکانہ کنونشن: کالعدم تنظیموں کو فری ہینڈ دیا گیا، فرقہ واریت پھیلائی جا رہی ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی

لاڑکانہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ضلعی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی آرگنائزر سندھ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ جان بوجھ کر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے، جو نفرت انگیزی کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،  مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع لاڑکانہ کا ضلعی کنونشن صوبائی آرگنائزر سندھ علامہ مقصود علی ڈومکی کی صدارت میں مسجد امام زمانہؑ لاڑکانہ میں منعقد ہوا۔ کنونشن کے دوران ضلعی شوریٰ کے انتخابی اجلاس میں مولانا عمران حسین چانڈیو کو آئندہ تین سال کے لیے دوبارہ ضلعی صدر منتخب کیا گیا، جن سے علامہ مقصود علی ڈومکی نے حلف لیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ عوام کے اتحاد سے خوفزدہ عناصر ایک بار پھر ملک میں فرقہ وارانہ نفرت اور دہشت گردی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد وحدت و چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اتحاد بین المسلمین کے پیغام کو عملی صورت دے رہے ہیں اور آج مظلوم عوام کی مضبوط آواز بن چکے ہیں۔

انہوں نے سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ اسلام آباد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس المناک واقعے کے ذمہ داروں کا تعاقب ناگزیر ہے اور یہ واقعہ حکومت و ریاستی اداروں کی نااہلی اور غفلت کو واضح کرتا ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے سیکیورٹی کی مد میں خرچ ہونے کے باوجود عوام کے جان و مال کا تحفظ کیوں ممکن نہیں بنایا جا سکا۔

لاڑکانہ کنونشن: کالعدم تنظیموں کو فری ہینڈ دیا گیا، فرقہ واریت پھیلائی جا رہی ہے، علامہ مقصود علی ڈومکی

انہوں نے کہا کہ شہداء کے قتل کے خلاف احتجاج عوام کا آئینی اور بنیادی حق ہے اور پوری قوم کو ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے مجلس وحدت مسلمین آئین و قانون کی بالادستی، عوامی حاکمیت اور ووٹ کے احترام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

آخر میں انہوں نے 8 فروری کے ملک گیر احتجاج کے دوران سندھ بھر میں شٹر ڈاؤن اور ہڑتال میں بھرپور شرکت پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha