اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روس کے مفتی اعظم اور روسی مسلمانوں کے مذہبی امور کے سربراہ نے ایرانی عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی سخت مذمت کی ہے۔
ماسکو سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، شیخ راویل عین الدین نے ایران کی تنظیمِ ثقافت و اسلامی روابط کے سربراہ حجت الاسلام محمد مہدی ایمانی پور کو ارسال کردہ ایک خط میں کہا کہ روسی مسلمان ایران اور اس کے عوام کے ساتھ برادرانہ تعلق اور دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔
مفتی اعظم روس نے اپنے خط میں لکھا کہ حالیہ دنوں میں ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر وہ اور روسی مسلمان مسلسل دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایران کو امن، اتحاد، باہمی ہم آہنگی، پائیدار ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔
انہوں نے ایران میں انسانی جانوں کے ضیاع اور مقدس مقامات و عبادت گاہوں پر حملوں کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور عقائد پر حملہ، نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ انسانی ہم آہنگی کے اصولوں کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
شیخ راویل عین الدین نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے ملک کی خودمختاری، شہریوں کے حقوق، عزت اور املاک کو بیرونی عناصر کے اشتعال پر ہونے والے فسادات سے بچانے کی کوششیں قابلِ فہم ہیں۔ ان کے مطابق ہر حکومت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بنائے اور قانون شکنی کرنے والوں کا مقابلہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب اور ہزاروں سالہ ریاستی روایت کا حامل ملک ہے، جو اپنی داخلی صلاحیتوں کے ذریعے قومی اتحاد اور باہمی مفاہمت پیدا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بیرونی طاقتوں کی غیرقانونی مداخلت ملک کو عدم استحکام اور غم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
خط کے اختتام پر مفتی اعظم روس نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کے دلوں کو قریب کرے اور انہیں اپنے وطن سے محبت اور وفاداری کے جذبے کے تحت متحد رکھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری 2026 میں ایران کی تنظیمِ ثقافت و اسلامی روابط نے مسلم دنیا کے 27 ممتاز مفتیان اور مذہبی شخصیات کو خطوط ارسال کر کے حالیہ ایرانی واقعات کے پس منظر سے عالمی عوام اور مذاہب کے پیروکاروں کو آگاہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
آپ کا تبصرہ