اہل البیت (اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جو نہایت حیرت انگیز ہے کسی فلم کی اسٹوری کی مانند ایک قصے اور افسانے کی مانند جس میں ایک ایسا کردار اچانک زندہ اور سلامت سامنے آتا ہے جس کو مردہ سمجھا گیا تھا... لیکن نہیں یہ ایک عشق کی داستان سے زیادہ ملتی ہے ایک کردار اچانک عاشق ہوجاتا ہے ایک الہی شخصیت کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے؛ خانہ و کاشانہ اور گھر و خاندان چھوڑ جاتا ہے اور کوہ و صحرا کی طرف نکلتا ہے اپنے عشق کے قدم بقدم...یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ یکم فروری 1979 کو ایک طیارہ تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر اترا اور جب امام خمینی ہوائی جہاز کی سیڑھی سے اترے تو ایک یونیفارم پوش فرانسیسی نے امام کا ہاتھ تھاما ہوا تھا؛ انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ یہ شخص ایک فضائی میزبان نہیں بلکہ ایک پولیس افسر تھا اور وہ دنیا سے رخصت نہیں ہوا بلکہ ایران آیا اور یہیں سکونت پذیر ہوا اور ابھی تک ایران میں ہے!.رشیدی، مرحوم فضائی میزبان کے تعاقب میں!ایران کے مشہور اداکار «داؤد رشیدی» ـ جنہوں نے فرانس میں زندگی بسر کی ہے اور فرانس میں تعلیم حاصل کی ہے اور فرانسیسی زبان سے بخوبی واقف ہیں ـ چند سال قبل فرانس چلے گئے اور پیرس کے نواحی گاؤں "نوفل لوشاتو" میں امام کی رہائش اور وطن واپسی کے بارے میں ایک ڈاکومینٹری بنائی. انھوں نے بقول ان کے ائیر فرانس کے فضائی میزبان کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان سے انٹرویو لینے کی کوشش بھی کی تھی مگر ان کی تلاش بے سود رہی انھوں نے ائیرفرانس، فرانس کی فضائی کمپنی اور متعلقہ اداروں میں اس شخص کو تلاش کیا مگر تلاش بے سود رہی اور نتیجہ جو انھوں نے لیا یہ تھا کہ : "امام کے ہمراہ طیارے کی سیڑھی سے اترنے والا شخص مرحوم ہوگیا ہے"!!انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد کی عجیب رپورٹمرکز اسناد کی یہ رپورٹ یکم فروری 2010 کو شائع ہوئی ہے؛ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے:یکم آبان ماہ 1388 کو جناب غصضنفری نامی شخص نے فون کرکے کہا: "کیا آپ اس فضائی میزبان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں جو یکم فروری 1979 کو امام خمینی کے ہمراہ ہوائی جہاز سے اترتا ہے؟ میں نے کہا: کیوں؟انھوں نے کہا: وہ تہران میں ہے اور تنہائی میں زندگی گذار رہا ہے. میں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا: انقلاب اسلامی کے مرکز اسناد میں آپ اور اس عزیز سے ملاقات کا مشتاقانہ انتظار کررہے ہیں. چنانچہ 10 آبان 88 کو جناب میر غضنفری "جناب ژورژان فابین باتااوش" کے ہمراہ مرکز اسناد کے دفتر میں تھے؛ تا ہم جناب باتااوش نے یکم فروری 1979 والا یونیفارم نہیں پہنا تھا اور عام لباس زیب تن کرکے آئے تھے. جناب باتااوش بہت سلیس فارسی بول رہے تھے اور بڑھاپے کے آثار نے ان کا سنہ 79 والے نقوش مٹادیئے تھے. میں نے ان سے کہا: ایران میں کیوں قیام پذیر ہوئے؟ اور اس کے بعد مجھے داؤد رشیدی کی ڈاکومینٹری یاد آئی جو انھوں نے پیرس میں امام کے قیام کے بارے میں بنائی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ شخص جو امام کے ساتھ طیارے سے اترتا دکھایا گیا تھا دنیا سے کوچ کرگیا ہے. جناب باتااوش نے کہا: میری عمر اس وقت 64 برس ہے اور الجزائری نژاد ہوں. میں فرانس ہجرت کرگیا اور ایک فرانسیسی گھرانے میں پلا بڑھا؛ فارغ التحصیل ہونے کے بعد فرانس کی پولیس میں چلا گیا اور جب میں نے شادی کا ارادہ کیا تو مجھے "بیتا آہی" نامی ایرانی خاتون ملی. ہماری شادی کا نتیجہ دو فرزند ہیں؛ ایک لڑکا اور ایک لڑکی جو اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان محو سفر رہتے ہیں. میں نے کہا: آپ ہمارے پیر و مراد امام روح اللہ الموسوی الخمینی رحمةاللہ علیہ کے ساتھ کیسے متصل ہوئے؟کہنے لگے: جب امام پیرس آئے تو فرانسیسی پولیس نے ان کی حفاظت کے لئے کئی افراد روانہ کئے جو امام کو پسند نہ آئے. حتی کہ قرعہ فال میرے نام نکلا اور پہلے دیدار میں ہی میرے اور امام کے درمیان تعلق برقرار ہوا اور چونکہ میں فارسی بھی روانی سے بول سکتا تھا چنانچہ یہ بھی میری قبولیت کا ایک سبب ہوا. امام نے نوفل لوشاتو نامی گاؤں میں 116 روز قیام کیا اور میں اس دوران ان کے ہمراہ رہا. جناب باتااوش کے پاس نوفل لوشاتو کی یادوں کا ایک بڑا ذخیرہ تھا. انھوں نے امام کی وطن واپسی کے بارے میں کہا: جب امام نے وطن واپسی کا عزم کیا تو میں بھی ان کی تاریخی پرواز میں ان کے ہمراہ تھا. جب طیارہ مہرآباد ہوائی اڈے پر اترنے لگا تو میں نے اپنا مخصوص یونیفارم زیب تن کیا اور جب وہ طیارے سے نیچے تشریف فرما ہورہے تھے میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور امام نے بھی میرا ہاتھ تھاما اور یوں ہم سیڑھیوں سے نیچے اترے.انھوں نے اس تاریخی دن کے بارے میں کہا: وہ ایک عجیب دن تھا اور لگتا تھا کہ مسیح علیہ السلام نے ظہور کیا ہے. انھوں نے ایران میں اپنی سکونت کے بارے میں کہا: میں امام سے شدید محبت و عقیدت رکھتا تھا چنانچہ میں نے ان کے فرزند سید احمد آقا سے کہا: میں ایران میں رہنا چاہتا ہوں.انھوں نے کہا: کیا فرانس کی حکومت آپ کے لئے مسئلہ کھڑا نہیں کرے گی؟میں نے کہا: نہیں بلکہ میں ریٹائرمنٹ لوں گا.یوں میں نے امام اور سید احمد آقا کی منظوری لے لی اور فرانس جاکر ریٹائرمنٹ لی اور اس کے بعد سید احمد آقا کے کہنے پر شہید چمران اور مرحوم نظران کے ساتھ کام کیا اور مختلف امور میں ان کے ساتھ قریبی تعاون کیا. ... اور اب بھی تہران میں قیام پذیر ہوں تاہم بیوی مجھ سے جدا ہوگئی ہے اورتنہا ہوں...گویا جناب باتااوش اب بھی امام کے عشق میں زندگی بسر کررہا ہے اور کیا خوب ہے کہ ان بے وطن اور بے لاف و گزاف اور بے دعوی عاشقوں سے درس عشق سیکھا جائے وہ بے وطن ہے ہیں مگر پردیس کی تلخی کو سوز عشق نے التیام بخشا ہے...





