اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آویگدور لیبرمن، اسرائیل بیتینو پارٹی کے سربراہ، نے ریحمان یونیورسٹی میں اپنی تقریر میں بنجمن نتن یاہو کی کابینہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے، اسرائیلی ریاست کی سیاسی اور بین الاقوامی صورت حال کو ایک بڑی تباہی کے دہانے پر قرار دیا۔
لیبرمن نے اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت میں بے مثال زوال’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دفاعی اور سیاسی نظام ہمیں ایک تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ آج ہماری بین الاقوامی پوزیشن اتنی گر چکی ہے کہ 1967 کے بعد پہلی بار، ہمیں فلسطینیوں سے بھی زیادہ تنہا اور پسپا کردیا گیا ہے۔
انہوں نے نتنیاہو پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو امریکی صدر کے ہاتھوں میں ‘ایک فرمانبردار آلہ کار’ بنا دیا ہے۔
لیبرمن نے آگے چل کر نتنیاہو کو ‘فرمانبردار کتا’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آج تک دنیا میں اور یہاں تک کہ واشنگٹن میں بھی اتنی تنہائی کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ ہم نے اپنی سیاسی خودمختاری کھو دی ہے اور نتن یاہو عملاً امریکی پالیسی کا یرغمال بن چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ