3 فروری 2026 - 10:13
'ایپسٹین کی سلطنتِ فحشاء؛ جنسی رسوائیوں سے بہت آگے ایک مقدمہ

امریکی ارب پتی جیفری ایپسٹین کا مقدمہ، جو سن 2019 میں جیل میں مشکوک انداز سے لقمۂ اجل بنا، ایک سادہ سے فوجداری مقدمے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || دستاویزات کے تجزیۓ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی سرمایہ دار اور بچوں کے جنسی اسمگلر جیفری ایپسٹین کی سرگرمیاں، ـ خاص طور پر موساد کی جانب سے، ـ مغرب کے سیاسی، سائنسی اور معاشی اشرافیہ کو پھنسانے اور قابو کرنے کے لئے، ایک پیچیدہ آپریشن کا حصہ تھیں۔

ایپسٹین کے حقیقی کردار کو سمجھنے کے لئے، ہمیں اس کی ذاتی خلاف ورزیوں سے پرے دیکھنا ہوگا اور اشرافیہ پر کنٹرول کے وسیع تر ڈھانچے پر نظر ڈالنا ہوگی؛ ایک ایسا ڈھانچہ جو تاریخ میں سرگرم رہا ہے اور اب بھی قائم اور سرگرم ہے۔

'ایپسٹین کی سلطنتِ فحشاء؛ جنسی رسوائیوں سے بہت آگے ایک مقدمہ

جیفری ایپسٹین کون تھا؟

جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ دار تھا جس نے پہلے ایک امیر مالیاتی منیجر کے طور پر شہرت پائی لیکن وہ درحقیقت کم عمر (18 سل سے کم) بچیوں کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک کا منتظم تھا۔

ایپسٹین سن 2008 میں کم عمر افراد کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کے جرم میں مجرم ٹھہرا لیکن اچانک رہا کر دیا گیا اور سن 2019 میں وفاقی سطح پر جنسی اسمگلنگ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

ایپسٹین کے افشا ہونے والے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ وہ جنسی اسمگلنگ اور 100 سے زیادہ کم عمر متاثرین کے استحصال کا مجرم تھا اور سیاست دانوں، مشہور شخصیات اور ارب پتیوں جیسے طاقتور افراد، فنکاروں وغیرہ کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات تھے۔

شواہد بتاتے ہیں کہ ایپسٹین کا پروجیکٹ بنیادی طور پر سیکورٹی اور انٹیلی جنس سے متعلق ہے اور اس کا سی آئی اے اور موساد سے گہرا تعلق تھا، لیکن امریکی سرکاری ادارے اور مرکزی دھارے کے میڈیا اس مقدمے کے صرف جنسی پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور اس کے مقدمے کے ان حصوں کو مدھم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افشا ہونے والے دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ایپسٹین امریکی ورجن آئی لینڈز میں ـ اپنے ذاتی جزیرے پر ـ مشکوک پارٹیاں منعقد کراتا تھا۔ سنہ 2008ع‍ میں، وہ کم عمر لڑکیوں کے استحصال اور ان کے ساتھ ناجائز تعلق کے جرم میں مجرم ٹہرا، لیکن 'ایک خفیہ معاہدے کے تحت' وہ صرف 13 ماہ جیل میں رہا۔

سن 2019 میں، اسے دوبارہ گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور اس کو مقدمے کی سماعت کا انتظار تھا جس سے ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بہت سے بڑے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ اس کے تعلقات کے 'بڑے راز' فاش ہو سکتے تھے؛ لیکن اچانک اعلان ہؤا کہ اس کی لاش نیویارک کی ایک جیل میں کے ایک کمرے سے ملی ہے۔ سرکاری حکام نے دعویٰ کیا کہ اس نے 'مبینہ طور پر' خودکشی کی ہے؛ ایک ایسی کہانی جسے ایپسٹین کے طاقت و دولت کے حلقوں سے تعلقات کی وجہ سے عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔

ایپسٹین کے پاس بل کلنٹن، ٹرمپ، شہزادہ اینڈریو اور بل گیٹس جیسی مشہور شخصیات کے حساس معلومات تھیں، اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی موت،  اس کے ممکنہ عدالتی انکشافات کا سد باب کرنے کے لئے واقع ہوئی تھی۔

گذشتہ مہینوں میں بہت سے شواہد سامنے آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ایپسٹین کے اسرائیل کے ساتھ بھی وسیع تعلقات تھے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ 'وہ بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ادارے "موساد" ایک ایجنٹ تھا۔

'ایپسٹین کی سلطنتِ فحشاء؛ جنسی رسوائیوں سے بہت آگے ایک مقدمہ

ایپسٹین نیٹ ورک

ایپسٹین کے موساد سے تعلق کی وجہ سمجھنے کے لئے، ہمیں ماضی میں دیکھنا ہوگا اور "گھسلین میکسویل (Ghislaine Maxwell)" کے کردار کو سمجھنا ہوگا، جو ایپسٹین کی قریبی دوست اور شریک کار تھی۔

گھسلین "رابرٹ میکسویل (Robert Maxwell)" کی بیٹی تھی، جو ایک برطانوی میڈیا Giant تھا اور اس کی موت کے بعد انکشاف ہؤا کہ وہ "اسرائیل کا اہم ترین انٹیلی جنس اثاثہ" تھا۔

رابرٹ میکسویل، جس کی اسرائیل میں ایک ہیرو کی سطح پر تدفین ہوئی، دراندازی اور منی لانڈرنگ کی کاروائیوں کا ماہر تھا۔

اسرائیل کا ایک سابق انٹیلی جنس افسر آری بن-میناشے (Ari Ben-Menashe)، نے واضح طور پر انکشاف کیا ہے کہ ایپسٹین اور گھسلین میکسویل رابرٹ میکسویل کے کام کو جاری رکھے ہوئے تھے اور موساد کے لئے ایک بڑا "ہنی ٹریپ" (honey trap / honey trapping) چلا رہے تھے تاکہ مغربی اشرافیہ کو بلیک میل کیا جا سکے اور انہیں قابو میں لایا جا سکے۔

ہنی ٹریپ جاسوسی کا ایک قدیم اور مشہور طریقہ ہے جس میں کسی ہدف فرد کو پھنسانے اور کنٹرول کرنے کے لئے جذباتی یا جنسی تعلق کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایپسٹین نے ایک نجی جزیرہ اور شاندار حویلیاں خرید کر ایسا ماحول بنایا جہاں دنیا کے طاقتور ترین مرد، بشمول بادشاہ، سلاطین، سربراہان مملکت و حکومت، سیاستدان، کھلاڑی، فنکار، شہزادے اور مغرب کے ممتاز سائنسدان، غیر اخلاقی افعال انجام دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پھنس جاتے تھے۔

عدالتی دستاویزات اور "ماریا فارمر (Maria Farmer)" جیسے متاثرین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام جائیدادیں جدید ترین خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ سسٹمز سے لیس تھیں۔ یہ تصاویر محض ذاتی لطف کے لئے نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد ایسی دستاویزات حاصل کرنا تھا جنہیں بعد میں نشانہ بننے والے افراد کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ سیاست کی دنیا میں، کسی سینیٹر یا سائنسدان کے جرم کرتے ہوئے ویڈیو رکھنے کا مطلب ہے اس کی مرضی اور فیصلوں پر مکمل مالکیت۔

مالی ابہامات اور "میگا گروپ"

ایپسٹین کی دولت اس مقدمے کا سب سے بڑا معمہ ہے۔ اس شخص کو یونیورسٹی سے نکالا گیا تھا، لیکن اچانک ایک ارب پتی بن گیا جو وال اسٹریٹ کے سیٹھوں کے ساتھ مقابلہ کرتا تھا۔

دستاویزات بتاتی ہیں کہ اس کی دولت، ایک یہودی ارب پتی اور "میگا گروپ" کے بانی " لیسلی ویکسنر (Leslie Herbert Wexner)"، سے تعلق میں جڑی ہوئی ہے۔

میگا گروپ صیہونی ارب پتیوں کا ایک خفیہ کلب ہے جس کا مقصد امریکہ میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنا ہے۔ ویکسنر نے نہ صرف اپنی 77 ملین ڈالر کی حویلی ایپسٹین کو بخشی، بلکہ اسے اپنے مالی معاملات پر مکمل اختیار بھی سونپ دیا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ خطیر رقم درحقیقت 'صرف ایک اسرائیلی انٹیلی جنس اسٹیشن' کے 'آپریشنل فنڈ' کو تشکیل دیتی تھی اور یہ فنڈز درحقیقت جیفری ایپسٹین کی ذاتی جائیداد کے لبادے میں چھپے ہوئے تھے۔

اسرائیل کے سیاسی اور سائنسی ڈھانچے سے تعلق

ایپسٹین کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں تھا۔ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم، "ایہود باراک"، ایپسٹین کے گھر میں کئی بار دیکھا گیا؛ یہاں تک کہ سیکورٹی ٹیکنالوجی کے منصوبوں میں اس کے ساتھ تعاون بھی کیا۔

یہ تعلقات بتاتے ہیں کہ ایپسٹین اسرائیل کی سیکورٹی اندرونی پرتوں تک بے مثال رسائی رکھتا تھا اور اپنے مشکوک دوروں کے لئے کے لئے کئی پاسپورٹ بھی استعمال کرتا تھا۔

سیاست سے پرے، ایپسٹین نے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی جیسی یونیورسٹیوں میں بھاری اخراجات کرتے ہوئے، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں نفوذ حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ مغرب کے سائنسی مستقبل کو بھی قابو میں لایا جا سکے۔

عدالتی استثنیٰ: "وہ امریکی نظام کا حصہ ہے"

شاید اس سارے معاملے کا سب سے چونکا دینے والا حصہ سنہ 2008ع‍ کا وہ شرمناک معاہدہ ہے۔ جب ایپسٹین پہلی بار سنگین الزامات کا سامنا کر رہا تھا، تو ریپبلکن پراسیکیوٹر "الیگزینڈر ایکوسٹا (Alexander Acosta)" نے اسے امریکی عدالتی تاریخ میں عدیم المثال استثنیٰ سے نوازا۔

ایکوسٹا نے بعد میں اعتراف کیا کہ اسے اعلیٰ حلقوں سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مقدمہ چھوڑ دے، کیونکہ "ایپسٹین انٹیلی جنس کمیونٹی کا حصہ ہے"۔

ایکوسٹا کا صرف یہی ایک جملہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ایپسٹین قانون سے بالاتر تھا اور سیکورٹی اداروں (ممکنہ طور پر موساد اور امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے کچھ حصوں کے اتحاد) کے تحفظ کے تحت کام کر رہا تھا۔

نتیجہ: ایک نیٹ ورک؛ سرحدوں سے ما وراء

میڈیم (Medium) پلیٹ فارم نے حال ہی میں ایک تجزیۓ میں لکھا ہے کہ ایپسٹین کیس ایک "پوشیدہ ہاتھ" یا ایک "ٹرانس-نیشنل" قوت کی موجودگی کا انکشاف کرتا ہے جو "بڑی پالیسیوں کو انتظام کے لئے انتہائی غلیظ ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔"

اس ڈھانچے میں، مغرب کے اشرافیہ اپنی قابلیت یا عوام کی رائے کے بجائے، بلیک میلنگ کے ذریعے "قابل کنٹرول" ہونے کی بنیاد پر، اپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین محض ایک جنسی مجرم نہیں تھا؛ وہ ایک انٹیلی جنس آپریٹر تھا جس کا کام مغرب میں طاقت کے دھڑکتے دل کو کسی خاص ایجنڈے کے حق میں یرغمال بنانا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجریر: احسان احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha