اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراقی سیاسی حلقوں نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراق کے داخلی امور میں مداخلت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے پسپائی اختیار کی گئی تو یہ مستقبل میں مزید مداخلتوں، خصوصاً عراقی کابینہ کی تشکیل، کا راستہ ہموار کر دے گا۔
خبر رساں ادارے المعلومہ کے مطابق، عراق کی سابق پارلیمنٹ کے رکن محمد البیاتی نے ٹرمپ کی ان کوششوں پر تنقید کی جن کے ذریعے وہ عراق پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اپنے صدر کے ذریعے، آئندہ وزیر اعظم کے انتخاب میں مداخلت کر کے عراق کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
محمد البیاتی نے زور دیا کہ عراقی سیاسی جماعتوں کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح کی رعایتیں امریکہ کو عراق کے معاملات میں مزید مداخلت کا موقع فراہم کریں گی۔ ان کے مطابق، اگر آج یہ دباؤ قبول کر لیا گیا تو کل کابینہ کے وزرا کے انتخاب تک میں واشنگٹن مداخلت کرے گا تاکہ اپنے مفادات کو پورا کر سکے۔
دوسری جانب، عراقی پارلیمنٹ کے موجودہ رکن حسین العطوانی نے کہا کہ کوآرڈی نیشن فریم ورک نوری المالکی کی وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی پر قائم ہے، جو بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی اتحاد کی واضح علامت ہے۔
العطوانی کے مطابق، نوری المالکی کی نامزدگی پر اصرار اور بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عراقی سیاسی قوتیں داخلی فیصلوں میں خودمختاری پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی شخصیات کا بیرونی طاقتوں کے سہارے المالکی کی نامزدگی روکنے کی کوشش کرنا اکثریتی اتحاد کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی تشکیل ایک خالصتاً قومی معاملہ ہے، جسے بیرونی ایجنڈوں کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا۔ شیعہ سیاسی قوتوں کے خلاف بیرونی طاقتوں سے مدد لینا ایک خطرناک رجحان ہے جو قومی فیصلوں کو کمزور اور سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نوری المالکی کی ممکنہ واپسی کے خلاف خبردار کیا اور دھمکی دی کہ اگر وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو امریکہ عراق کی امداد بند کر دے گا۔
ٹرمپ نے اس موقف کی وجہ نوری المالکی کے سابقہ دورِ حکومت کے تجربات کو قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ