اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے برائے عراق، مارک ساویا، کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اور اب امریکہ کی جانب سے عراق سے متعلق امور کی نگرانی ایک نئے نمائندے کے سپرد کر دی گئی ہے۔
عراقی خبر رساں ادارے المطلع کے مطابق، فواد حسین نے کہا کہ مارک ساویا اب عراق میں امریکہ کے نمائندے نہیں رہے۔ ان کے مطابق، امریکہ کے ترکیہ میں سفیر اور شام کے لیے امریکی نمائندے توماس باراک کو واشنگٹن کی جانب سے عراق کی فائل سنبھالنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے رائٹرز نے اتوار کے روز باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ مارک ساویا، جنہیں اکتوبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے امور کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا، اب اس منصب پر فائز نہیں رہے۔
اس سے قبل لبنانی اخبار الاخبار نے لکھا تھا کہ تجزیہ کاروں کے مطابق ساویا کی تقرری ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھی جس کا مقصد مغربی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ کی ازسرِ نو ترتیب اور محورِ مزاحمت، بالخصوص عراقی گروہوں، کو کمزور اور تقسیم کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے بالواسطہ دباؤ کے ذریعے انہیں غیر مسلح کرنے اور ایران سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، ساویا کے عراقی پس منظر، عربی زبان پر عبور اور عراقی معاشرتی و ثقافتی شناخت کی وجہ سے ان کا انتخاب کیا گیا تھا تاکہ وہ عراق کے سیاسی، مذہبی اور نسلی دھڑوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کر سکیں۔ اس کے علاوہ، ان کا مسیحی ہونا اقلیتی طبقات کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں معاون سمجھا جا رہا تھا۔
تاہم، ان تمام قیاس آرائیوں کے باوجود، مارک ساویا نے اس سے قبل اپنے عہدے سے ہٹائے جانے یا استعفیٰ دینے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی رپورٹس بے بنیاد ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ابھی باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہی نہیں، اس لیے برطرفی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عراقی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے بعد اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ مارک ساویا عملی طور پر اس منصب سے ہٹا دیے گئے ہیں اور امریکہ نے عراق سے متعلق اپنی پالیسی کی ذمہ داری ایک نئے نمائندے کو سونپ دی ہے۔
آپ کا تبصرہ