اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روس کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو کو امید ہے کہ مغربی ممالک ایران کے عوام کے خلاف عائد پابندیوں کی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں گے اور انسانی حقوق کے معاملے کو تہران کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بند کریں گے۔
زاخارووا نے ایک پریس بریفنگ میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے اس بیان کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلائی جس میں ایران میں عوامی حقوق پر پابندیوں کے منفی اثرات ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ کے اس عہدیدار کے بعض بیانات متنازع رہے، تاہم انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ایران میں حالیہ احتجاجات بڑی حد تک قیمتوں میں شدید اضافے اور خراب معاشی صورتحال کا نتیجہ تھے، جسے بیرونی پابندیوں نے مزید سنگین بنا دیا۔
زاخارووا نے زور دیا کہ روس اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کی اس “منصفانہ اور بروقت اپیل” کی حمایت کرتا ہے جس میں عالمی برادری سے ایران کے عوام کے حقوق پر پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور امید ظاہر کی کہ پابندیاں عائد کرنے والے ممالک بھی اس اپیل پر توجہ دیں گے۔
ایران کو امریکہ کی دھمکیوں کے تناظر میں روس سے مدد کی درخواست سے متعلق ایک سوال کے جواب میں روسی ترجمان نے کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان قریبی سیاسی مکالمہ جاری ہے اور اس حوالے سے روس پہلے ہی متعدد سرکاری بیانات جاری کر چکا ہے، اس وقت مزید کچھ کہنا نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی رابطوں میں خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر مسلسل غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نبنزیا نے کہا ہے کہ ایران اب ماضی کے مقابلے میں خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ تیار ہے۔ جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے زور دیا کہ ایران کے معاملے پر مذاکرات کی گنجائش ختم نہیں ہوئی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ