بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ حج کی آیات 56 اور 57 اس مقام کی طرف پلٹتی ہیں جہاں سوائے اللہ کی طاقت کے، کوئی بھی طاقت نہیں رہتی جو بات کرنے یا حکم دینے پر قادر ہو؛ جس دن دشمنان حق کی بنی بنائی حکمرانیاں بکھر جاتی ہیں اور حقیقت آشکار ہوجاتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت میں مکمل حکمرانی اللہ کی ہوگی اور کافر اپنے انکار اور حق کی دشمنی کی وجہ سے دردناک عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔
اس یاد دہانی سے، درحقیقت، واضح ہوجاتا ہے کہ دشمنوں کا آج کا تسلط عارضی اور اور محض فریب و سراب ہے۔ وہ معاشروں پر ظاہری طور پر تو قابض ہو سکتے ہیں، لیکن آخرکار اللہ کے حضور ان کا انجام ذلت اور یقینی عقوبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہی نقطہ نظر مؤمنوں کو ظاہری طاقتوں کے خوف سے محفوظ رکھتی ہے اور دشمن کو اس کی حقیقی جگہ پر رکھتی ہے؛ ایک ایسی مخلوق جس کے پاس اب بھی کچھ موقع ہے مگر اس کی مہلت ختم ہو رہی ہے۔
سورہ حج کی آیات 56 تا 64:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
"الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿۵۶﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴿۵۷﴾ وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ﴿۵۸﴾ لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُدْخَلًا يَرْضَوْنَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌ ﴿۵۹﴾ ذَلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿۶۰﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ﴿۶۱﴾ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ﴿۶۳﴾ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ؛ ﴿۶۴﴾
ترجمہ: اس روز فرمانروائی صرف اللہ ہی کی ہے، وہی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، لہٰذا جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک اعمال بجا لائے وہ نعمتوں سے مالامال جنتوں میں ہیں * اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیات کو جھٹلاتے رہے پس ان کے لئے ذلت آمیز عذاب ہو گا * اور جنہوں نے راہ خدا میں ہجرت اختیار کی پھر وہ مارے گئے یا مر گئے انہیں اللہ یقیناً اچھی روزی سے ضرور نوازتا ہے اور رزق دینے والوں میں یقیناً اللہ ہی بہترین ہے * وہ ایسی جگہ میں انہیں ضرور داخل فرمائے گا جسے وہ پسند کریں گے اور اللہ یقیناً بڑا دانا، بڑا بردبار ہے * [مؤمن اور کافر کے بارے میں] بات یہی ہے [جو کہی گئی] اور جو [جارح و متجاوز کو] اسی طرح سے سزا دے ویسی ہی جیسی کہ اسے سزا دی گئی ہے، پھر اس کے خلاف زیادتی سے کام لیا جائے تو بلاشبہ اللہ اس کی مدد کرے گا، یقینا اللہ معاف کرنے والا ہے بڑا بخشنے والا * یہ [ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد] اس بنا پر ہے کہ اللہ [لامتناہی طاقت کا مالک ہے اور اس کی طاقت کا ایک چھوٹا سا نمونہ یہ ہے کہ] رات کو دن کے اندر لے جاتا ہے اور دن کو رات کے اندر لے جاتا ہے اور بلاشبہ اللہ بڑا سننے والا ہے، بہت دیکھنے والا * یہ [خلقت کو امور اور مخلوقات کے حالات پر اللہ کیبے انتہا طاقت] اس بنا پر ہے کہ اللہ ہی حق ہے، اور جس کی وہ اس کے سوا دہائی دیتے ہیں، وہ سب باطل ہے اور بلاشبہ اللہ ہی ہے جو بہت بلند بہت بڑا ہے * کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی تو زمین سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ بلاشبہ اللہ بہت لطف و کرم والا، بہت خبر رکھنے والا ہے * اس کا ہے وہ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی وہ بے نیاز ہے جو تعریف کا حق دار ہے۔"
دشمن کی ہٹ دھرمی کے مقابل ایمان و عمل صالح کا انعام
مذکورہ آیات مؤمنوں کو دشمنوں کے مد مقابل لا کھڑک کرتی ہیں، وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں، نیک عمل کرتے ہیں اور حق کے راستے پر قائم اور استوار رہتے ہیں۔ قرآن کریم آیات 56 اور 57 میں مؤمن لوگوں اور ضدی دشمنوں کے تضاد کو واضح کرکے ایک مستقل معیار قائم کرتا ہے، ایمان سکھ اور نجات لاتا ہے، لیکن حق کے ساتھ دشمنی انسان کو خوفناک عذاب کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ تضاد درحقیقت دشمن کی شناخت (دشمن شناسی) کا ایک نقشہ ہے؛ جو لوگ حقیقت کو دیکھتے ہیں لیکن انکار کرتے ہیں، وہ ابتدائے اسلام کے ضدی اور جھگڑالو دشمنوں سے مختلف نہیں ہیں۔ آیات دونوں گروہوں کے شروع اور انجام کو صاف و شفاف انداز سے بیان کرتی ہیں تاکہ مؤمن جان لے کہ اللہ کے نظام میں، دشمن کا راستہ اور مشن شکست پر ختم ہو جاتا ہے اور اہل ایمان کا راستہ نجات و فلاح پر۔
اللہ کی آیات میں شک کرنے والوں کو انتباہ
اس کے بعد، آیات دشمنوں کے ایک دوسرے گروہ کو متعارف کرواتی ہیں؛ وہ لوگ جو شکوک ڈال کر اور شبہات پیدا کر کے لوگوں کو توحید اور حق و حقیقت کے راستے سے دور کرتے ہیں۔
یہ لوگ نزولِ قرآن کے زمانے کے وہی مشرکین اور شک و شبہات ڈالنے والے تھے، لیکن آج بھی ان کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں: "وہ گروہ جو تحریف، نفسیاتی جنگ اور جھوٹی کہانیاں گھڑ کر معاشرے کے ایمان و یقین اور فکر و عقیدے کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ رویہ قرآن کی نظر میں، اللہ کی آیات سے دشمنی، کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد نور ہدایت، بجھا دینا ہے۔
آیت کی روشنی میں ان دشمنوں کی سزا ذلت آمیز عذاب ہے، ایسا عذاب جو براہ راست ان کے طریقے اور کردار سے تناسب رکھتا ہے۔ آیات ثابت کرتی ہیں کہ دشمن بظاہر اہل فکر اور روشن خیال دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں، وہ سچائی کو چھپاتا اور حقیقت کو مکتوم کرتا ہے اور معاشرے کو تاریکی کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ کی قدرت اور دشمن کی بے بسی کی نشانیاں
آیت 59 کے بعد کی آیات میں، کلام کا رخ دشمن کی عقوبت سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کی طرف مُڑ جاتا ہے، لیکن موضوع کی یہ تبدیلی دراصل دشمن شناسی کے بحث کو مکمل کرتی ہے۔ قرآن آسمانوں اور زمین میں اللہ کی نعمتوں اور نشانیوں کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ جھٹلانے والوں کے توسط سے۔
آیات دشمن کو اس عظمت کے سامنے ایک چھوٹی اور بے بس مخلوق کے طور پر متعارف کرواتی ہیں؛ جو نہ تو نزولِ باران کو روک سکتا ہے، نہ خشک زمین کو زندہ کر سکتا ہے اور نہ ہی نظامِ خلقت میں کوئی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقت کا مظاہرہ کرے، اس کی طاقت اس ارادے پر منحصر ہے جو اس سے بالاتر ہے۔ یہی آگاہی مومن کو ظاہری طاقتوں کے خوف سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے بصیرت دیتی ہے تاکہ وہ دشمنوں کی تشہیری اور ابلاغی جنگ، پابندیوں، دھمکیوں اور فکری یلغار کے دھوکے میں نہ آئے۔
اللہ کی رحمتِ واسعہ اور دشمن کی چھپی ہوئی حقیقت کا افشاء
آیات 63 اور 64 میں، قرآن کریم اللہ کی رحمت کی یاد دہانی کراتا؛ وہ رحمتِ واسعہ جس کی برکت سے دنیا زندہ ہے اور انسان روزی پاتا ہے۔
ظاہر میں یہ تصور ممکن ہے کہ یہ رحمت دشمنوں کا احاطہ بھی کرتی ہے اور وہ اس نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن آخری آیت تاکید کرتی ہے کہ آخرکار سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور کوئی بھی اس رحمت سے ہمیشہ کے لئے غلط فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
حق کے دشمن اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن یہی نعمتیں ایک دن ان کے خلاف دلیل و حجت بنیں گی؛ کیونکہ انہوں نے انہیں ظلم اور حق کے مخالفت کا ذریعہ بنایا۔ اس طرح، آیات ایک واضح نتیجہ دیتی ہیں: اللہ اور اس کی آیات سے دشمنی، نہ تو حقیقت میں کوئی جڑ رکھتی ہے اور نہ ہی اللہ کی کامل و شامل رحمت کے باوجود، قائم رہ سکتی ہے اور اس کا انجام عذاب، ذلت اور سقوط و زوال ہے۔
سورہ حج کی آیات 56 سے 64 دشمن شناسی کا ایک واضح نقشہ پیش کرتی ہیں: دشمن یا تو کھلم کھلا انکار کے ساتھ، نزاع و جدال کرتا ہے، یا شک و شبہے کے ذریعے، یا پھر ظاہری طاقت کے دکھاوے سے۔ لیکن اس کے مقابل حقیقی طاقت اللہ کی ہے جو قیامت میں بھی ظاہر ہوگی اور اسی دنیا میں بھی نظامِ خلقت میں نمایاں ہے۔
حق کے دشمنوں کا انجام عذاب اور بربادی ہے اور مؤمنوں کی تقدیر نجات اور کامیابی۔ یہ آیات مضبوط زبان میں مؤمن معاشرے کو ہوشیاری کی دعوت دیتی ہیں اور دشمنوں کا مقدر ہونے والے انجام سے پردہ اٹھاتی ہیں؛ وہ دشمن جن کو دی ہوئی مہلت جتنی بھی ہو، اللہ کے ارادے کے سامنے نہیں ڈٹ سکتے۔
ان آیات کی تلاوت قرآن کریم کے صفحہ 339 دیکھیں اور سنیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ