اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی سے ٹیلی فونک گفتگو میں بغداد کی ’’سیاسی خودمختاری‘‘ کے نام پر آئندہ عراقی حکومت کی تشکیل پر تشویش ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ اگر مستقبل کی حکومت ایران کے زیرِ اثر ہوئی تو یہ عراق کے استحکام اور بغداد ـ واشنگٹن تعلقات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس رابطے میں خبردار انداز اختیار کرتے ہوئے آئندہ عراقی حکومت کے ڈھانچے پر موقف اختیار کیا، جسے مبصرین عراق کے داخلی سیاسی معاملات میں واشنگٹن کی براہِ راست مداخلت کا واضح تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
اسکائی نیوز کے مطابق، امریکی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اس ٹیلی فونک رابطے میں عراق اور ایران کے تعلقات کے علاوہ عراقی جیلوں میں قید داعش کے عناصر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا؛ ایک ایسا موضوع جسے امریکہ حالیہ برسوں میں بغداد پر سیاسی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ایسی کوئی بھی حکومت جو واشنگٹن کے بقول ’’ایران کے کنٹرول‘‘ میں ہو، نہ تو عراقی قومی مفادات کا تحفظ کر سکے گی، نہ ہی ملک کو علاقائی کشیدگی سے دور رکھ پائے گی اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دے سکے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف عراق میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں ڈھالنے کی کھلی امریکی کوشش ہے۔
مارکو روبیو نے یہ بھی بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان عراق میں زیر حراست غیر ملکی شہریوں کی اپنے ممالک منتقلی سے متعلق سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی، جسے ناقدین عراق کے عدالتی اور سلامتی نظام میں براہِ راست مداخلت قرار دے رہے ہیں۔
ادھر باخبر ذرائع نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکومت نے سینئر عراقی سیاست دانوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران سے قریبی مسلح گروہوں کو آئندہ حکومت میں شامل کیا گیا تو عراق کو وسیع پیمانے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پوری عراقی ریاستی ساخت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، واشنگٹن نے یہاں تک دھمکی دی ہے کہ وہ عراق کی سب سے اہم مالی شہ رگ، یعنی نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں رکھے گئے عراقی تیل کے محصولات کو بھی تعزیری اقدامات کا نشانہ بنا سکتا ہے، جسے سیاسی دباؤ کے لیے معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ دھمکیاں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی ان سخت ترین پالیسیوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد عراق میں ایران سے قریبی سیاسی دھڑوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ پیغامات بغداد میں امریکی ناظم الامور جوشوا ہیرس کی جانب سے سرکاری حکام اور بااثر شیعہ رہنماؤں تک براہِ راست پہنچائے جاتے رہے ہیں، جس کے بعد عراق میں سیاسی فیصلوں کی خودمختاری سے متعلق سوالات ایک بار پھر مرکزی بحث بن گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ