اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی رژیم کے اعلیٰ حکام ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد شدید ناراضی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جب کہ ان ملاقاتوں کے دوران بعض ایسے مطالبات سامنے آئے جنہوں نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی سخت دباؤ میں ڈال دیا۔
عبری ویب سائٹ وائی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے ہفتے کے روز امریکی صدر کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس کے دوران وٹکوف نے رفح کراسنگ دوبارہ کھولنے کے لیے غیر معمولی دباؤ ڈالا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ ملاقات بظاہر رسمی نوعیت کی تھی، تاہم صہیونی سیاسی حلقوں میں وٹکوف کے اس اصرار پر سخت ناراضی پائی جاتی ہے کہ آخری اسرائیلی قیدی کی واپسی سے قبل ہی رفح کراسنگ کھول دی جائے۔
ایک صہیونی ذریعے نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اس گفتگو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وٹکوف دراصل ترکیہ کو، جسے اسرائیل ایک اہم سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے، خطے میں فعال کردار دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ذریعے کے مطابق، ترکیہ کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کا وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے۔
وائی نیٹ کے مطابق، اگرچہ اسرائیلی فریق نے سرکاری طور پر اس ملاقات کو مفید قرار دیا ہے، لیکن اندرونی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ایک اور صہیونی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف عملی طور پر قطر کے مفادات کے ترجمان بن چکے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ صہیونی فوج نے نام نہاد "یلو لائن" کے کنکریٹ بلاکس کو مشرق کی جانب منتقل کرتے ہوئے غزہ شہر کے تاریخی تفاح محلے میں درجنوں عمارتیں مسمار کر دی ہیں، جو جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
دسمبر 2025 کی 2 اور 13 تاریخ کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، کنکریٹ بلاکس کو تقریباً 200 میٹر تک حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے اندر منتقل کیا گیا، جس کے بعد کم از کم 40 عمارتیں تباہ کر دی گئیں اور پورا علاقہ خالی ہو کر رہ گیا۔
آپ کا تبصرہ