اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار یدیعوت آحارانوت نے تجویز دی ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے بہانے لبنان کے اندر اس کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
اخبار نے جمعے کی شام اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر بظاہر اسرائیل لبنان کے اندر حزب اللہ پر فوجی حملے کر کے اپنے روایتی جنگی انداز کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران سے جڑے واقعات نے ترجیحات بدل دی ہیں کیونکہ اس بات کا امکان بڑھ رہا ہے کہ تل ابیب اور تہران کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم میں حزب اللہ بھی شامل ہو سکتی ہے، اور یہی صورتحال اسرائیلی فوج کو لبنان پر حملے کا ایک سنہری موقع فراہم کر سکتی ہے۔
اخبار نے اپنی ویب سائٹ پر مزید لکھا کہ اگرچہ اسرائیل ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم تل ابیب میں یہ تاثر غالب ہے کہ لبنان کی جانب سے مداخلت کا امکان موجود ہے، جسے بنیاد بنا کر حزب اللہ پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اس خیال کے تحت کہ ایسی کارروائی سے حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے میں مدد ملے گی۔
یدیعوت آحارانوت کے مطابق اسرائیل نے اپنی ترجیحات میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ مختلف محاذوں کو باہم جڑا ہوا سمجھتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ایران مستقبل میں کسی بھی کشیدگی کے دوران حزب اللہ کو میدان میں لانے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ اسی حقیقت کے باعث اسرائیل نے نہ صرف لبنان کے ساتھ شمالی محاذ بلکہ یمن میں انصاراللہ (حوثیوں) کے ساتھ ممکنہ تصادم کے حوالے سے بھی اپنی تیاریوں کی سطح میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر امریکا ایران کے خلاف فوجی حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسرائیل اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ پر حملہ کر سکتا ہے، جسے اس کے نقطۂ نظر سے لبنانی حکومت کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مددگار اقدام قرار دیا جائے گا۔
اسی تناظر میں اسرائیلی نجی چینل 12 نے بھی جمعے کے روز ایران کی جانب سے ممکنہ ’’پیشگی حملے‘‘ کے خدشات پر بات کی۔ چینل کے مطابق اسرائیل میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی کے باعث تہران یہ سمجھ سکتا ہے کہ واشنگٹن کا حملے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے اندازوں کے حوالے سے چینل نے بتایا کہ اصل خدشہ ’’غلط اندازے‘‘ کے امکان کا ہے، جو ایران کو اس نتیجے پر پہنچا سکتا ہے کہ امریکی حملہ ناگزیر ہے، اور اسی بنا پر وہ کسی امریکی کارروائی سے پہلے اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔
چینل کے مطابق یہ اندازے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج آئندہ چند دنوں میں خطے میں بڑے پیمانے پر اپنی تعیناتی مکمل کرنے جا رہی ہے، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور میزائل روکنے کے نظام شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ