اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کریملن کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "صدر پوتن کو بھی امن کونسل میں شامل ہونے کی دعوت ملی ہے۔" تاہم، انہوں نے رضامندی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ پسکوف نے مزید کہا کہ روس اس تجویز کے تمام پہلوؤں کو واشنگٹن کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ دعوت نامے دنیا بھر کے متعدد سربراہان مملکت کو بھیجے گئے ہیں، جو اس نئی تنظیم کا حصہ بنیں گے جس کی قیادٹ ڈونلڈ ٹرمپ خود کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ غزہ کی جنگ ختم کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت ٹرمپ کی سربراہی میں ایک امن کونسل تشکیل دی جائے گی۔ امریکی انتظامیہ نے ان سیاستدانوں اور سفارتکاروں کے نام بھی جاری کیے ہیں جو "امن کونسل" یا "ایگزیکٹو کونسل" میں شرکت کریں گے۔ دیگر حکام نے بھی دعوت نامے موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی رہنما غزہ کے بحران کے حل کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ