اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حجۃالاسلام والمسلمین اختری نے جامعۃ المصطفی العالمیۃ کے نمائندگان اور منتظمین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعۃ المصطفی کی سرگرمیاں قابل قدر و منزلت ہیں اور میری رائے کے مطابق یہ اجلاس بہت ضروری اور مفید اور نہایت مؤثر ہے. سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے کہا کہ آج دنیا میں ہمارے لئے بہت مناسب فضا معرض وجود میں آئی ہے اور دنیا میں اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) کا وسیع انداز میں استقبال کیا جارہا ہے.انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی اور حضرت امام خمینی (رح) نے آج کی زمانی میں بہت مناسب مواقع فراہم کئی ہیں تا کہ ہم دنیا کی دورافتادہ ترین علاقوں میں افتخار، عزت اور عظمت کی ساتھ اہل بیت علیہم السلام کی باری میں بات کرسکیں اور اسلام کے لئے کام کریں. انھوں نے کہا: یہ مسلم علماء کی ذمہ داری ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی معارف و تعلیمات کو دنیا میں عام کریں. انھوں نے کہا کہ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اور جامعة المصطفی کے درمیان متعدد مفاہمت ناموں پر دستخط ہوئے ہیں اور ہم آپس میں تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں. حجتالاسلام والمسلمین اختری نے کہا: ہمارا 120 ممالک کے درمیان رابطہ ہے کہ دنیا کی سطح پر پیروان اہل بیت علیہم السلام کے باہمی رابطے کے لئے ایک نیٹ ورک قائم کریں اور حتی ثقافتی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے ایک ہماہنگ اور متحدہ نیٹ ورک قائم کیا جائے. حجت الاسلام والمسلمین اختری نے عالمی یہودی نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ہے مگر وہ وسیع و عریض نیٹ ورکس کے مالک ہیں جبکہ شیعیان اہل بیت علیہم السلام کی آبادی 30 کروڑ سے بھی زائد ہے اور وہ معیشت، سیاست، ثقافت و تہذیب اور ذرائع ابلاغ جیسے شعبوں میں عالمی سطح پر کردار ادا کرسکتے ہیں. انھوں نے کہا: سیاسی، معاشرتی اور ثقافتی شعبوں میں اہل تشیع کی حمایت بہت ضروری ہے اور انہیں عالمی فورموں میں حصہ اور کردار ملنا چاہئے. انھوں نے کہا کہ اہل تشیع کا دفاع بہت اہم اہداف و مقاصد میں سے ہے. سیکریٹری جنرل نے کہا: مسلمانان عالم اس وقت دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہیں اور انہیں عالمی فورموں میں حصہ اور کردار ملنا چاہئے، مسلمانوں کی معیشت مستحکم ہونی چاہئے اور اسے تقویت پہنچانی چاہئے جبکہ مسلم امّہ اور اہل تشیع کے ذرائع ابلاغ کی تقویت بھی بہت مؤثر ہے. انهوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: مختلف ممالک میں تنظیموں اور فورموں کی تشکیل، مختلف ممالک کے اہل تشیع کی مقامی سرگرمیوں کی حمایت، مختلف ممالک کے پیروان اہل بیت (ع) کی ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، خواتین کے اجلاسوں کا انعقاد، نوجوانوں کی تنظیمیں قائم کرنا اور قانونی فورموں کی تشکیل اور ان سرگرمیوں میں سے ہیں جو منتظمین اور نمائندگان بیرونی ممالک میں انجام دے سکتے ہیں.
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176696
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے کہا ہے کہ اہل بیت (ع) کے معارف و تعلیمات کی اشاعت، دنیا میں رہنے والے پیروان اہل بیت (ع) کے امور کو نظم و نسق دینا اور ان کے درمیان رابطہ و تعلق قائم کرنا عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اور جامعۃ المصطفی العالمیۃ کا مشترکہ مقصد ہے.