اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے صوبہ خوزستان کی دوری کے موقع پر صوبائی دارالحکومت اہواز کے "مہر ہال" میں اس صوبے کے منتخب نمائندوں، علماء اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں وہابیوں کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور حکومت ان کی ریشہ دوانیوں سے غافل نہیں ہے۔
جناب ڈاکٹر احمدی نژاد نے ـ وہابیوں کی ریشہ دوانیوں پر تنقید کرنے والے ـ ہال میں حاضر ایک نوجوان ـ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: ہمارے پاس صوبۂ خوزستان میں وہابیت کی سرگرمیوں کی پوری معلومات موجود ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جذبات کا اظہار کرکے کسی مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا اور ہر مسئلے کا علاج صحیح منصوبہ بندی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض مسائل کو اچھالنے سے وہابی تفکر کو تقویت مل سکتی ہے اور اس طرح کے اقدامات وہابیت کے استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ ایک غلطی ہے؛ اگر آپ ملک کے ہمدرد ہیں تو اس سلسلے میں ہونے والے اقدامات کی طرف توجہ دیں.
ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: خوزستان میں انحرافی فرقوں کی فعالیت کی گنجائش نہیں ہے اور خوزستان کے عوام ان فرقوں کی جڑیں سُکھا دیں گے.