18 مارچ 2010 - 20:30

ڈائرکٹرجنرل آئی ایس پی آر میجرجنرل اطہرعباس نے کہاہے کہ جنوبی وزیرستان سے شدت پسندوں کونکال کران کے مراکزتباہ کردیئے گئے ہیں اوریہ اب بھاگتے پھررہے ہیں۔

کوئٹہ شوریٰ سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں جبکہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی جانب سے سرحدی چوکیاں ہٹانے سے باجوڑاور مہمندایجنسیزمیں شورش دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔جیونیوزکے نمائندے عاصم علی رانا کو دیئے گئے خصوصی انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان سے شدت پسندوں کو نکال کران کے مراکز تباہ کردیئے گئے ہیں اور اب تک چھ سوپچاس شدت پسندہلاک کیاگیاہے،انہوں نے بتایا کہبچے کچے شدت پسند ملک میں دہشت گردی کررہے ہیں جن پر جلدقابوپالیں گے ۔انہوں نے کہا کہکوئٹہ شوریٰ سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں اوربلوچستان میں نیامحاذکھولنے کے تباہ کن تنائج برآمد ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہمالاکنڈ اورجنوبی وزیرستان آپریشن کے لیے بیرونی دباؤقبول کیا نہ امدادلی۔میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی سرحدی چوکیاں ہٹانے سے باجوڑ اورمہمند ایجنسویوں میں شورش دوبارہ شروع ہوگئی ہے اورافغان سرحدی علاقوں میں اتحادی فوج کے آپریشن سے دہشت گردقبائلی کا رخ کریں گے جس سے پاک فوج پردباؤ بڑھے گا،اس حوالے سے امریکا کی عسکری قیادت کو نئی افغان پالیسی پر پاک فوج کی تشویش سے آگاہ کردیاہے۔ان کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ اورجنوبی وزیرستان میں بہترین پیشہ وارانہ حکمت عملی اورعوام کے تعاون سے شدت پسندوں کا صفایا گیا۔