یزید قیامت تک کے لئے مردہ ہے اور یزیدیت بھی قیامت تک کے لئے مردہ ہے، حسین علیہ السلام کی روح ریگکربلا سے پھر پکار رہی ہے۔ آج سیدہ زینب علیہا السلام کی روح اجڑے ہوئےخیموں سے ہمیں صدا دے رہی ہے۔ آج علی ا کبر اور علی اصغر کے خون کا ایکایک قطرہ دریائے فرات کا شہدائے کربلا کے خون سے رنگین ہونے والا کنارہہمیں آواز دے رہا ہے کہ حسین علیہ السلام سے محبت کرنے والو! حسینیت کےکردار کو اپنے قول و عمل میں زندہ کرو۔ یزیدیت کو پہچانو، یزیدیت تمہیں توڑنے اور تمہارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے، حسینیت تمہیں جوڑنے کے لئے ہے۔ حسینیت اخوت، محبت اور وفا کی علمبردار ہے، یزیدیتاسلام کی قدریں مٹانے کا نام ہے۔ حسینیت اسلام کی دیواروں کو پھر سےاٹھانے کا نام ہے، یزیدیت قوم کا خزانہ لوٹنے کا نام ہے، حسینیت قوم کیامانت کو بچانے کا نام ہے۔ یزیدیت جہالت کا اور حسینیت علم کا نام ہے۔یزید ظلم کا اور حسین امن کا نام ہے۔ یزید اندھیرے کی علامت ہے اور حسینروشنی کا استعارہ ہے۔ یزیدیت پستی اور ذلت کا نام ہے جبکہ حسینیت انسانیت کی نفع بخشی کا نام ہے۔
اس دنیائے فانی میں اپنے مکرو فریب اور جبروتشدد سے حاصل کی ہوئی قوت کےبل بوتے پر کسی کا بظاہر کامیاب نظر آنا اور اقتدار حاصل کرلینا، اصلکامیابی نہیں۔ بلکہ حقیقی اوردائمی کامیابی یہ ہے کہ انسان کو تخت ملے یاتختہ وہ دنیاوی جاہ وحشمت کے لئے اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑے۔
قرآن حکیم میں ہے کہ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (آل عمران، 3 : 197) ’’
"(ان کے) یہ (دنیاوی) فائدے تھوڑے ہی دنوں کے لئےپھر (آخر کار) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے"۔
بتایاجارہا ہے کہ ظالم و فاسق لوگوں کا کچھ وقت کے لئے اقتدار کے نشے میں بدمستہونا تمہیں ان کی کامیابی کا مغالطہ نہ دے کیونکہ ان کے یہ دنیاوی فوائدتو چند روزہ ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ گرفت فرمائیں گے تو یہ سب مال و متاع اور جاہ و حشمت دھری کی دھری رہ جائے گی اور یہ لوگ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ مزید برآں آخرت کے ساتھ ان کی دنیا بھی جہنمزار بنادی جائے گی۔ بے شمار لوگ ایسے ہوئے کہ جو کرسی اقتدار پر بیٹھ کرتکبر کرتے رہے اور اپنے زعم باطل میں خدا بن بیٹھے مگر ان کا انجام یہ ہواکہ وہ نہ صرف اس جھوٹی خدائی کے تخت سے ہٹا دیئے گئے بلکہ انہیں اسی دنیامیں نشان عبرت بنا کر نیست و نابود کردیا گیا۔ کسی شاعر نے ایسے ہی نشہاقتدار میں بدمست حکمران کے لئے کیا خوب کہا ہے۔
تم سے پہلے بھی کوئی شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا
جو شخص اللہ کے دین سے بغاوت کرتا ہے، قوت ربانی کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے چند دنوں کے لئے اسے ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ ظلم میں اپنی انتہاء اور بدبختی میں اپنی آخری حد کو پہنچ جائے۔ جب اس کا ظلم اپنے انجام کو پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور گرفت آتی ہے، اسے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے اور آنے والی نسلوں میں اس کا نام تک لینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یزید کہ جس نے دنیا کی چند روزہ حکومت اور اقتدار کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کرتے ہوئے خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم کی انتہاء کردی اور کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں بھوک اور پیاس سے نڈھال اہل بیت