15 جون 2009 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکی اور برطانوی سازشوں اور بےجا پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے دو کروڑ ڈالر مختص کئے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ کی سازشوں اور ملت ایران کے خلاف بے جا پابندیوں کا سد باب کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی جانب سے جورقم مختص کی گئی ہے اس کا بنیادی مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی طاقتوں کی اجارہ داری کا خاتمہ اور نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی  کے میدان میں امریکی اور برطانوی سازشوں اور بےجا پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے دو کروڑ ڈالر مختص کئے ہیں۔اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اور غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ تیس برس قبل شروع ہوگیا تھا لیکن حالیہ برسوں میں آنے والی تیزی اور اقدامات میں شدت اس نفسیاتی اور تشہیراتی جنگ کا حصہ ہے جو خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کو کم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے اور یہ وہ جنگ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ایران پوری توانائی رکھتا ہے چنانچہ  اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے آج کے اجلاس میں عالمی برادری کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کئے جانے کے متعدد واقعات سے آگاہ کرنے کے لئے بیس ملین ڈالر مختص کئے جانے کو منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کو بھی امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ تیار کرنے اور اسے ہر سال چار نومبر کو جاری کرنے کا پابند بنایا ہے ۔ تیرہ آبان (بمطابق چار نومبر) وہ تاریخ ہے جسے ملت ایران عالمی سامراج کے خلاف قومی دن کے طور پر مناتی ہے ۔ 1979 کی اسی تاریخ کو تہران میں واقع نام نہاد امریکی سفارتخانے پر طلباء نے قبضہ کرکے امریکی طاقت کے بت کو پاش پاش کردیا تھا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے ایٹمی توانائی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ساتھ حکومت ایران کے تعاون کی سطح کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ قانونی اعتبار سے ایران کے ایٹمی معاملےکے سلسلے میں اب کوئي مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے اس لئے ایران کا ایٹمی معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے نکال کر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں واپس لایا جانا چاہئے ۔ پارلیمنٹ نے اس خط میں ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی اور اس کے بورڈ آف گورنرز کے رویئے کو سیاسی اور دوہرا قرار دیتے ہوئے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں بغیر کسی وقفے کے جاری رہنے پر زور دیا۔