15 جون 2009 - 19:30

سعودی عرب اپنے شہریوں کی فلاح کی بجائے اس وقت شمالی یمن میں جنگی جرائم اور بچوں اور عورتوں کے قتل عام میں مصروف ہے اور اسے اپنے ملک میں سیلاب یا دیگر قدرتی آفتوں کے مقابلے میں عوام کو مدد پہنچانے کی نہ تو فکر ہے اور نہ ہی فرصت. اور پھر جدہ میں سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات سے سعودیوں کی دولت اور فلاحی مملکت کا پول بھی کھل گیا ہے

سعودی عرب میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ہے عوام کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بہت سے افراد لاپتہ ہیں اور جدہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔عوام کے مطابق سعودی حکام کی غفلت کی وجہ سے سیلاب کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔ایک وکیل نے دھمکی دی ہے کہ وہ جدہ کے شہری حکام کے خلاف مقدمہ درج کروائیں گے جبکہ سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹ فیس بک پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ ناقص سہولیات اور حکام کی غفلت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔بحیرہ احمر کے اس ساحلی شہر میں بہت سے لوگ سیلاب کی وجہ سے اپنی گاڑیوں میں پھنس کر ہلاک ہو گئے۔ کچھ لوگ پلوں سے گر کر ان کے ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔طوفانی بارشوں کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں مناسک حج کی ادائیگی میں بھی لاکھوں کی تعداد میں حج ادا کرنے والوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئی حاجی شامل نہیں ہے۔ــــسعودی عرب اپنے شہریوں کی فلاح کی بجائے اس وقت شمالی یمن میں جنگی جرائم اور بچوں اور عورتوں کے قتل عام میں مصروف ہے اور اسے اپنے ملک میں سیلاب یا دیگر قدرتی آفتوں کے مقابلے میں عوام کو مدد پہنچانے کی نہ تو فکر ہے اور نہ ہی فرصت. اور پھر جدہ میں سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات سے سعودیوں کی دولت اور فلاحی مملکت کا پول بھی کھل گیا ہے.