وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ہفتہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سرحد میں ہم حالت جنگ میں ہیں ۔ دہشت گرد اور طالبان آج راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہر حال میں ان لوگوں کو ڈھونڈ باہر نکالیں گے اور فاٹا میں بھی سوات کی طرح امن ہو جائے گا ۔ اور ساتھ ہی پورے ملک میں سیکورٹی ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کے ملحقہ علاقوں باڑ ہ ‘ درہ آدم خیل اور متنی کے علاقوں میں ایکشن کیا جانے والا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پشاور میں داخل ہونے کے 107 راستے ہیں اور وہاں ایک نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے ۔ جس سے آئندہ دنوں میں بہتری ہو جائے گی ۔ وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ملا عمر کی کراچی میں موجودگی کی افواہ کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ ایک الزام ہے اور پاکستان اسے مسترد کرتا ہے ۔ اور ملا عمر پاکستان میں نہیں ہے، امریکی ڈائریکٹر سی آئی اے سے ملاقات میں ان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کے تحفظات امریکہ سے زیادہ ہیں اور سب سے بڑ ا تحفظ یہ ہے کہ افغانستان سے بلوچستان میں مسلح دراندازی ہو رہی ہے ۔ جسے بند ہونا چاہئے ۔ کیونکہ وہاں سے راکٹ لانچر ‘ طیارہ شکن توپیں اور بارودی سرنگیں لائی جا رہی ہیں ۔ یہ معاملہ اب بند ہونا چاہئے، یہی بات افغانستان سے بھی کہی گئی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں سی آئی اے کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں ۔ البتہ جن ملکوں کے بارے میں ثبوت تھے وہ بھی ڈائریکٹر سی آئی اے سے شیئر کئے گئے ہیں اور اس معاملے پر صدر اور وزیر اعظم نے بھی بات کہی ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی اور سیکورٹی کمپنیوں کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 172684
امریکہ کے ساتھ افغانستان سے بلوچستان میں دراندازی کا معاملہ اٹھایا ہے