15 جون 2009 - 19:30

جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے 430 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے، آپریشن راہ نجات کا تیسرا مرحلہ کامیابی سے جاری ہے ۔کوئٹہ میں دو افراد جاں بحق

بریگیڈئر فرخ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ شوال میں فورسز کی کارروائی جاری ہے،جنوبی وزیرستان کی بڑی شاہراہوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے، جبکہ لدھا سے مکین کے درمیان زمینی راستوں کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے،تمام چوٹیوں پر فورسز کا قبضہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلا ک ہونے والوں میں ازبک اور تحریک طالبان کے دہشت گرد شامل ہیں، جن کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
سراروغہ سے اکیس خودکش جیکٹس ملی ہیں،سیکیورٹی فورسز مکین کی جانب پیشقدمی کررہی ہیں۔ جہان بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
زرائع کے مطابق اب فورسز جناٹا گاؤں میں پہنچ چکی ہیں ۔ سیکیورٹی فورسز کے بریگیڈئر شفیق نے  بیان میں کہا ہے کہ تمام علاقہ کو چھ سے سات روز میں کلیئر کرالیا جائے گا۔
دوسری طرف سے بلوچستان میں حکومت مخالف کاروائیاں جاری ہیں اور آج ہی کوئٹہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں پولیس اہلکار سمیت دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ کلی عالمو میں دھماکے سے ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا ہے ۔
پولیس کے مطابق سبزل روڈ کی پندرانی اسٹریٹ میں احسان صدیقی اپنی دوکان کے باہر کھڑا تھا کہ موٹرسائیکل سوار نامعلوم افراد نے اس پر فائرنگ کردی۔سر پر گولی لگنے سے احسان شدید زخمی ہوگیا۔ اسے بولان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگیا۔دوسرے واقعے میں مستونگ روڈ پرنامعلوم افراد نے نیو سریاب پولیس کی موبائل وین پر فائرنگ کردی جس سے ہیڈ کانسٹیبل شفیق محمد جاں بحق اور کانسٹیبل شوکت شدید زخمی ہوگیا ۔کوئٹہ کے علاقے کلی عالمو میں کوئٹہ چمن ریلوے ٹریک پر دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ٹریک کا دو فٹ ٹکڑا اڑ گیا ۔ رات کے اوقات میں ٹرین سروس نہ ہونے کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوئی۔