15 جون 2009 - 19:30

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں تھانے کی حدود میں دھماکے سے چھ افراد جاں بحق اور بیالیس سے زائد زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں؛ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خودکش حملہ آور دھماکا خیز مواد سے بھری کار میں سوار تھا جس نے نواحی علاقے بڈھا بیر میں پولیس اسٹیشن کی دیوار سے گاڑی ٹکرادی ۔ ڈی سی او صاحب زادہ انیس کے مطابق کار خیبر ایجنسی کی طرف پشاور میں آٹھ روز سے پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں جس میں آج پانچویں مرتبہ خودکش حملہ آور نے پشاور کا رخ کیا۔ مگر ایف سی اہلکار کی بروقت کارروائی نے دہشت گردی کی کوشش ناکام بنادی۔

دھماکے میں استعمال کی گئی گاڑی کا چیسز نمبر مل گیا ہے۔ مزدا گاڑی اور تانگا بھی دھماکے کی زد میں آیا اور اس میں سوار افراد بھی زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں فرسٹ ائیر کا طالب علم عبدالمنان بھی شامل ہے۔ پانچ بچوں، دو خواتین اور دو پولیس اہلکاروں سمیت بیالیس افراد زخمی ہیں۔

دھماکے کے نتیجے میں تھانے کی عمارت کے علاوہ بلال جامع مسجد شہید ‘ ڈگری کالج سمیت آس پاس کی 6 عمارتوں ‘ دکانوں اور متعدد گاڑ یوں کو نقصان پہنچا دھماکے کے بعد ملبے کے نیچے دبے افراد کو نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جا ری ہیں۔

دھماکے میں 250 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ‘جائے وقوعہ پر 5 فٹ گہرا اور 22 فٹ چوڑ ا گڑ ھا پڑ گیا

اطلاعات کے مطابق دھماکہ آج پیر کی صبح 8 بجے کے قریب ایک بارود سے بھری پک اپ سے اس وقت کیا گیا جب حملہ آور کو پولیس اہلکاروں نے تھانے کی طرف بڑ ھتے ہوئے روکا تو اس نے مسجد کے قریب دھماکہ کر دیا ۔ جس سے مسجد شہید ہو گئی اور تھانے کی بیرونی دیوار بھی منہدم ہو گئی ۔ دھماکے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور انڈس ہائی وے پر ٹریفک معطل کر دی

معمول کے مطابق ! صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیر داخلہ رحمٰن ملک رحمان ملک، وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی، سینئر وزیر بشیر بلور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین، گورنر سرحد اویس احمد غنی‘ مسلم لیگ ( ن ) کے نواز شریف‘ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ اے این پی کے سربراہ اسفندر یار ولی‘ آفتاب شیرپاؤ ‘ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین‘ گورنر اور وزیر اعلی سندھ اور وزیر اطلاعات شازیہ نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔