15 جون 2009 - 19:30

آج پورے اسلامی جمہوریہ ایران میں عالمی استکبارکے خلاف جدوجہد کا قومی دن پورے جوش وخروش سے مناياگيا

چارنومبرانیس اناسی کو امام خمینی رہ کے پیروطلباء نے تہران میں امریکہ کے سابق سفارتخانےپرجوجاسوسی کا اڈہ بن چکا تھا قبضہ کرلیا امریکہ کے جاسوسوی اڈے میں سفارتکاروں کے بھیس میں امریکی جاسوس ایران کے اسلامی انقلاب اوراسلامی نظام کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف تھے جس کے بعد طلباء نے جاسوسی کے اس اڈے پرقبضہ کرلیا۔ اس واقعہ کے بعدامام خمینی نے اپنے بیان میں طلباء کے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے انقلاب دوم کا نام دیا تھا ۔اس سال کے بعد ہرسال اس دن ایران میں عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کا قومی دن منایا جاتا ہے ۔اس مناسبت سے آج پورے ایران کے تمام چھوٹے بڑےشہروں میں عوام خاص طورپرطلباء نے وسیع پیمانےپرجلوس نکالےاور امریکہ مردہ بادکے نعرے لگاکرامریکہ کی سامراجی پالیسیوں کے تئيں ایک بارپھر اپنی نفرت وبیزاری کا اعلان کیا ۔  عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کی مناسبت سےآج پورا اسلام جمہوریہ ایران امریکہ مخالف نعروں سے گھنٹوں گونجتا رہا ۔اس سلسلے کا سب سے بڑا جلوس تہران میں امریکہ کے جاسوسی اڈےکے سامنے نکالاگیا جس میں لاکھوں انقلابی طلباء اورعوام کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنےوالے افرادنے شرکت کی اورایران کے اسلامی جمہوری نظام اوراسی طرح شہداء انقلاب، امام خمینی رہ اوررہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے تجدید عہد کرتے ہوئے امریکہ سے اپنی شدید نفرتوں کا  اظہارکیا ۔ آج کے دن کے جلوسوں میں طلباء کی شرکت اس لئے سب سے زیادہ نمایاں رہتی ہے کہ انیس سواٹھہترمیں آج کے ہی دن ظالم شاہی حکومت کے کارندوں نے اسکولی طلباء کے ایک احتجاجی جلوس پرحملہ کرکے دسیوں اسکولی طلباء کوشہید کردیا تھا اس لئے آج کے دن کواسکولی طلباء کا دن بھی کہا جاتا ہے ۔ جبکہ انیس ترسٹھ میں آج ہی کے دن شاہی حکومت نے امام خمینی رہ کوجنھوں نے کیپچولیشن کے خلاف تقریرکرکے ایرانی عوام کوشاہی حکومت کی غداریوں سے مطلع کیا تھا ایران سے ترکی جلاوطن کردیا تھا ۔  آج پورے ملک میں امریکہ مخالف نکالے گئے جلوسوں میں قراردادبھی پاس کی گئی جس میں امریکہ کی سامراجی اورظالمانہ پالیسیوں کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی ۔ تہران میں امریکہ مخالف جلوس کے لاکھوں شرکا ء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس شورائے اسلامی میں ثقافتی کمیشن کے سربراہ اورسابق اسپیکرجناب حدادعادل نے کہا کہ جمہوریت اورڈیموکریسی کے تعلق سے امریکہ کا رویہ دوہرے معیارکا ہے ۔انھوں نے کہا امریکہ ایک طرف ایسے ممالک کے حکمرانوں کی حمایت کرتا ہے جہاں کبھی انتخابات نہيں ہوئے اوردوسری طرف فلسطین میں حماس کی زیرقیادت عوامی حکومت کوغیرقانونی قراردیتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے بارےمیں  بھی امریکی صدرکے تبدیلی کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوئے ہيں جناب حدادعادل نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب ایران میں عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کا قومی دن منانے تیاری ہورہی تھی امریکی صدرباراک اوبامہ نے کانگریس کی طرف سے منظورکئے گئے پچپن ملین ڈالرکے بجٹ پرجوایران کے اسلامی نظام کے خلاف استعمال ہونے کے لئے مختص کئے گئے ہيں، دستخط کئے ہي۔ بنابریں صدرباراک اوبامہ کے تبدیلی کے نعرے کی کوئی اہمیت نہيں ہے اورامریکہ اپنی سامراجی ماہیت اورسرشت سے بازنہيں آرہا ہے انھوں نے کہاکہ آج ایران کے عوام اپنے اسلامی نظام اورانقلاب کے ثمرات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہيں اوراس کا ثبوت انھوں نے گذشتہ تیس برسوں خاص طورپرحالیہ صدارتی انتخابات کےموقع پراوراس کے بعد کی صورت حال میں پوری طرح سے پیش کیا ہے ۔جناب حدادعادل نے کہاکہ ایران کے عوام اپنی آزادی وخودمختاری اورایٹمی حقوق سمیت کسی بھی حق سے سرموبھی پیچھے نہيں ہٹیں گے۔

٭ چارنومبر، سامراجی پیکرپرایرانی قوم کا مہلک وار

٭ ڈاکٹر حداد عادل کا خطاب