15 جون 2009 - 19:30

حضرت آیت‏اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: ہم سعودی علماء کے ساتھ تعلقات کے خواہاں ہیں تا ہم سعودی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ انتہا پسند وہابیوں کو اننتہا پسندی سے روک لیں.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت‏اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بدھ کے روز درس خارج کے آغاز پر سعودی عرب میں شیعہ زائرین کی توہین پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا: یہ واقعات سعودی حکومت کے لئےآزمائش کا درجہ رکھتے ہیں اور اب اس کو یہ ثابت کرنا ہے کہ کیا وہ حرمین کی خدمت کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ تفرقہ اندازی اور فتنہ انگیزی کرنے والے شرپسندوں کا راستہ روک سکتی ہے یا نہیں؟

انھوں نے کہا: ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی حکمران ان واقعات کا سد باب کریں اور ہمیں امید ہے کہ سعودی حکومت پوری طاقت سے ان انتہا پسند وہابیوں کا راستہ روک لے کیونکہ سب سے بھونڈا عمل یہ ہے کہ کسی ملک میں داخل ہونے والے مہماں کو ابتدائی لمحات سے لے کر سفر کے آخر تک اس ملک کے بعض باشندوں کی طرف سے ہتک حرمت اور توہین آمیز سلوک کا سامنا ہو.

مرجع موصوف نے کہا: ہم سعودی علماء کے ساتھ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن انہیں ان انتہاپسند افراد کا راستہ روکنا چاہئے تا کہ وہ سعودی عرب کی آبرو تباہ نہ کریں.

انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر کسی مباحثے یا مجادلے میں ایک فریق "مراء" کرے یعنی اگر کوئی شخص جانتا ہے کہ اس کی بات حق پر مبنی ہے مگر تنازع و تخاصم سے بچنے کے لئے وہ بات کہنے سے اجتناب کرے پیغمبر اکرم (ص) اس کے لئے تین مقامات پر جنت کی ضمانت دیتے ہیں.

شیعیان اہل بیت کی اس مرجع تقلید نے کلام خداوندی کی قدیم یا حادث ہونے کے سلسلے میں صدر اول سے ہونے والی علمی بحث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان تعصبات اور ہٹ دھرمیوں کے نتیجے میں حق و حقیقت نہاں ہوجاتی ہے؛ حق و باطل میں تمیز ناممکن ہوجاتی ہے؛ تنازعات اور جھگڑیے جنگ کی حد تک بڑھ جاتے ہیں اور مؤمنین کو اذیت و آزار اور توہین و ہتک حرمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی بنا پر رسول اللہ (ص) نے فرمایا: خواہ تماری بات برحق ہی کیوں نہ ہو، [جب محسوس ہوجائے کہ تمہاری بات جهگڑے اور نزاع کا باعث بن رہی ہے] اسی لمحے اپنی بات ختم کردو تا کہ بحث تخاصم اور جدال پر منتج نہ ہو جائے.