15 جون 2009 - 19:30

صہیونی حکام جنگی جرائم کی عدالت میں مقدمات سے بچنے کے لئے عالمی قوانین میں تبدیلی کے درپے ہیں ۔

صہیونی حکام کو اس بات کا شدید خوف لاحق ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی بناء پر  ان کے خلاف  جنگی جرائم  کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور وہ اس  سے بچنے کے لئے عالمی قوانین میں تبدیلی کے درپے ہیں  ۔ کل صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ماہرین کی کمیٹیوں سے کہا گیا کہ وہ عالمی جنگی قوانین میں تبدیلی کے مسئلے کا جائزہ لیں۔ نیتن یاہو کی کابینہ کی  ان کمیٹیوں نے جنگی قوانین میں تبدیلی کے بارے میں کابینہ کو بعض تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں صہیونی حکام کو جنگی مجرم قرار دینے سے متعلق رچرڈ گولڈسٹون کی رپورٹ منظور کئے جانے کے بعد صہیونی کابینہ کی جانب سے جنگي قوانین میں تبدیلی کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے ۔ رچرڈ گولڈسٹون کی رپورٹ میں آيا ہے کہ صہیونی ریاست نے غزہ میں حملوں کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ واضح رہے کہ غزہ پر صہیونی ریاست کے بائیس روزہ حملوں میں ایک ہزار پانچ سو فلسطینی شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئر مین کے ترجمان نے کہا ہے کہ رواں سال ختم ہونے سے قبل غزہ میں صہیونی ریاست کے جنگی جرائم سے متعلق رچرڈ گولڈسٹون کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ صہیونی ریاست کے سیاسی اور فوجی عہدیداروں کو اس بات کا شدید خوف لاحق ہے کہ گولڈسٹون کی رپورٹ جنگی جرائم کی عدالت میں جانے کی صورت میں ان کے خلاف  قانونی کارروائي کی جائے گي اور صہیونی کابینہ کی جانب سے  عالمی جنگي قوانین میں تبدیلی کے جائزہ کے مسئلے کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔