وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون ون میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فوجی گاڑ ی پر مختلف اطراف سے فائرنگ بریگیڈیئر معین سمیت 2 فوجی اہلکار جان بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطاق یہ واقعہ آج جمعرات کی صبح ساڑ ھے سات بجے کے قریب جی الیون ون کے قریب کشمیر ہائی وے پر اس وقت پیش آیا جب بریگیڈیئر معین دو فوجی اہلکاروں کے ہمراہ گاڑ ی پر دفتر جا رہے تھے کہ 2 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑ ی پر خود کارہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے بریگیڈیئر معین اور ایک فوجی اہلکار موقع پرجان بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار پمز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے دہشت گرد واردات کے بعد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے جی الیون میں روپوش ہو گئے عینی شاہدین کے مطابق دہشت گردفرار ہوتے وقت ایک موٹر سائیکل پھسل گئی جس کے بعد ملزمان پیدل بھاگ نکلے اسلام آباد کو شہر کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پچاس سے زائد گرفتاریاں گرفتار ہونے والوں میں مسجد کا خطیب اور دینی مدارس کے لوگ بھی شاملوفاقی دارالحکومت میں پاک فوج کی گاڑ ی پر فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے ملحقہ علاقوں میں 50 سے زائد مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ گرفتار ہونے والوں میں دینی مدارس کے لوگ اور ایک مسجد کے امام بھی شامل ہیں۔نواحی علاقہ سیدہ گاؤں اور دیگر علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 50 سے زائد مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ جائے وقوعہ سے پولیس حکام اورماہرین نے شواہد بھی اکٹھے کئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جی الیون میں واقعے مسجد نور الفرقان کے خطیب کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملحقہ علاقوں میں دینی مدارس میں بھی سرچ آپریشن کیاجا رہا ہے جس کے دوران کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا تھاکہ بریگیڈیئر معین کی گاڑ ی اچانک یہاں سے گزر رہی تھی اور ان کا روزانہ آنا جانا نہیں تھا کیونکہ وہ چار دن پہلے سوڈان سے وطن واپس آئے تھے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران اسلحہ رکھنے والوں کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے گا ۔ ایک عینی شاہد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ آرمی کی گاڑ ی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور فائرنگ کرنیوالے دو موٹر سائیکل سوار تھے جو قریبی گلی میں داخل ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ جبکہ پولیس نے ان کا تعاقب نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ جائے وقوعہ کے قریب ہی پولیس کی دو چیک پوسٹیں قائم ہیں لیکن پولیس نے سست روی کا مظاہرہ کیا ہے ورنہ فائرنگ کرنے والو کا پیچھا کر کے پکڑ سکتے تھے۔
( سوال یہ ہے کہ ایک طرف سے تو مذکورہ اہلکار کا اس روٹ سے آنا جانا ہی نہیں تھا اور پھر وہ حال ہی میں سوڈان سے آئے تھے تو پھر دہشت گردوں کو ان کی آنے اور اس علاقے سے ان کے گذرنے کی اطلاع کس نے دی؟ کیا یہ گھر کے بھیدیں کا کام نہ تھا؟ کیا آج جی ایج کیو پر حملے اور اب اس اعلی اہلکار کے قتل کے بعد اندرون خانہ صفائی اور اصلاح کی طرف توجہ دینے کا وقت نہیں آن پہنچا؟ کیا مزید اور ان سے بڑے نقصانات کا انتظار ہے؟ اور یہ کہ وہ نقصان کتنا بڑا ہو تو اندرون خانہ کالی بھیڑوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی نوبت آئے گی؟)
وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی الیون کی گلی نمبر پانچ میں موٹر سائیکل سوار دو دہشت گردوں نے صبح نو بجے کے قریب فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ حملے میں دہشت گردوں نے خود کار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے پاک فوج کے بریگیڈئر معین الدین اور ان کا ڈرائیور سپاہی اصغر علی موقعے پر جان بحق جبکہ محافظ صابر شدید زخمی ہو گیا۔ فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہو گئے، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام ، فوج کے کمانڈوز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور جائے وقوعہ کا محاصرہ کر لیا۔جائے وقوعہ کے قریب سے ولی نامی ایک مشتبہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے جس پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ملزمان کی تلاش کیلئے سیکٹر جی الیون اور اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی عمریں اٹھارہ سے بائیس سال کے درمیان ہیں۔ جان بحق ہونے والے بریگیڈیئر معین الدین اسی علاقے میں رہتے تھے۔