نیویارک میں پچھلے ماہ امریکی پولیس اور ایف بی آئي اے کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور مبینہ نسلی پروفائیلنگ کے خلاف ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں نے مظاہرہ کیا ہے جن میں اکثریت جنوبی ایشیائي ملکوں سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
احتجاجی مظاہرے کے موقع پر پریس کانفرنس میں تارکین وطن اور جنوی ایشیائي کیمونٹی اور مسلم مذہبی رہنمائوں نےامریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر نیویارک میں افغانیوں سمیت مسلم کمیونٹی کو مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کئے۔
پریس کانفرنس میں علاقے سے تعلق رکھنے والے کئی مقررین نے الزام عائد کیاکہ:
نہ ہم مسلمان جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد جاسکتے ہیں نہ محلے میں آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں کیونکہ؛
ہم پرامریکی پولیس اور دیگر اداروں کی ہر وقت بے جا نگرانی لگي ہوتی ہے۔
ہمیں ایک خاص مذہب و نسل سے تعلق رکھنے کے بنا پر غلط طور پر دہشتگرد بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔