ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے شعبۂ سیف گارڈ کے انچارج ہرمن ناکارتس نے ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے نام ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ایران کی جانب سے یورینئم کی افزدوگی کی نئي تنصیبات کے بارے میں معلومات فراہم کۓ جانے پر ایران کی تعریف کی گئي ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئي ثبوت نہیں ملا ہے کہ ایران نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ خط ایسی حالت میں منظر عام پر آیا ہے جب حالیہ چند دنوں میں امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے سربراہان مملکت ایران پر این پی ٹی کے اصولوں اور ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔ ہرمن ناکارتس کے خط میں آیا ہے کہ یورینئیم کی افزدوگي کی جدید تنصیبات کی اطلاع، ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کو وقت سے پہلے دینے کے ایران کے اقدام کی ہم تعریف کرتے ہيں ۔ واضح رہے کہ ایران نے اکیس ستمبر کو ایک خط کے ذریعے ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کو یورینیئم کی افزدوگي کے اپنے دوسرے پلانٹ کی تعمیر سے آگاہ کردیا تھا۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 168376
ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی نے ایران کی جانب سے یورینئم کی افزودگي سے متعلق نئی تنصیبات کی تعمیرکی پیشگی اطلاع دینے پر ایران کی تعریف کی ہے ۔