اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمنی افواج کی ایک کمانڈر نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے حوثی مجاہدین پر خواتین، بوڑھوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا اور کہا کہ حوثی گروہ کے مجاہدین نے عوام کو گھر بار چھوڑنے اور صعدہ کے ارد گرد کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا ہے. انہوں نے البتہ یہ نہیں کہا کہ سرکاری افواج نے ان ہی خواتین، بوڑھوں اور بچوں کو کیمپوں کے اندر ہی وحشیانہ بمباریوں کا نشانہ بنایا ہے اور ان بمباریوں میں سینکڑوں افراد موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے ہیں.
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران یمنی فضائیہ نے دو مختلف حملوں میں 220 نہتے پیروان اہل بیت (ع) کا قتل عام کیا جس کے بعد عالمی رائے عامہ میں بدنامی سے بچنے کے لئے سرکاری حکام نے شیعہ مجاہدین پر اس طرح کی الزامات کا سلسلہ شروع کررکھا ہے.
مذکورہ یمنی کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر حوثی مجاہدین فائربندی کے لئے سرکاری شرائط قبول نہ کریں اور سرکاری شرائط ہی پر حکومت کے ساتہ مذاکرات کی میز پر نہ آئیں تو ان پر زمینی گولہ باری اور فضائی بمباری کا آغاز کیا جائے گا اور علاقے میں ہر قسم کی امدادی سرگرمیوں کو روک دیا جائے گا.
یادرہے کہ الحوثی مجاہدین نے یہ کہہ کر سرکاری شرائط کو مسترد کیا ہے کہ یہ شرائط ظالمانہ اور جارحانہ ہیں جن کی تحت مذاکرات کرنا حکومت کے سامنے نہتا ہونے اور اور بعد میں زیادہ وحشیانہ طرز سلوک کا سامنا کرنے کے مترادف ہے چنانچہ یمنی سرکارکی طرف سے یہ اعلان ظالمانہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے.
یمنی حکومت نے اس سے قبل بھی کئی بار فائربندی کا اعلان کرکے فائربندی کی مدت کے دوران ہی کیمپوں میں پناہ لینے والے افراد کو وحشیانہ اور غیر انسانی حملوں کا نشانہ بنایا ہے اور اس وقت اس نے شرط لگائی ہے کہ اہل تشیع ہتھیار ڈال دیں اور اپنے حقوق کے مطالبے سے دست بردار ہوجائیں تو ان کے ساتھ مذاکرات ہوسکتے ہیں!!!