اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے آج (بروز پیر) ملنے والی یمن میں شیعہ نسل کشی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اس بار حکومت کی طرف سے عارضی جنگ بندی کے فورا بعد ہونے والے حملوں میں 140 افراد شہید ہوگئے ہیں اور شہداء کی تعداد میں اضافہ بهی ہوسکتا ہے.
آژانس فرانس پریس AFP کے مطابق یہ حملہ کل (بروز اتوار) ہوا ہے اور سرکاری افواج نے دعوی کیا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تهی کہ حوثی مجاہدین نے حملے جاری رکهے ہوئے ہیں جس کے جواب میں انہون نے شیعہ علاقوں پر حملہ کیا ہے.
حوثی مجاہدین کا کہنا ہے کہ سرکاری افواج نے 11 اگست سے جن وحشیانہ حملوں کا آغاز کیا ہے ان میں عام طور پر شہری آبادی اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے.
یمنی افواج کے نئے حملے ایسے حال میں انجام پائے ہیں کہ حکومت یمن نے جمعہ کے روز عیدالفطر کے سلسلے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تها اور یہ جنگ بندی 3 دنوں کے لئے تهی مگر عید کے روز ہی توڑ دی گئی.
شیعہ مجاہدین نے ہفتے کے روز اعلان کیا تها کہ سرکاری افواج نے جنگ بندی کے خلاف ورزی کرتے ہوئے صعدہ صوبے کے شہر "حرف سفیان" اور صوبہ "عمران" کی طرف پیشقدمی کا آغاز کیا ہے.
حکومت یمن نے جنگ بندی کے اپنے ہی اعلان کی خلاف ورزی کے بعد کہا ہے کہ جنگ بندی اسی وقت ہی پائیدار ہوسکے گی کہ شیعہ مجاہدین فوج سے لئے ہوئے ہتهیار واپس کردیں اور اپنے زیرقبضہ شہروں اور پہاڑی علاقوں سے پسپا ہوجائیں.
اس سے قبل یمنی فوج نے صعدہ شہر میں تین فضائی حملے کئے ہیں جن میں متعدد مکانات تباہ ہو گئے ہیں. جبکہ حکومت یہ بهی دعوی کرتی ہے کہ صعدہ کا مرکزی شہر کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے.
یادرہے کہ گذشتہ بدھ کو یمنی فوج کے جنگی طیارے نے صوبہ صعدہ میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ پر بمباری کی تھی جس میں 87 افراد شہید ہو گئے تھے. اس سے دو روز پہلے الطلح کے قصبے میں ایک مارکیٹ کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا.
بے گھر افراد پر حملہ:
مجاہدیں سے شکست کھانے کے بعد:
یمنی حکمرانوں نے شیعیان زیدی کی نسل کشی کا سہارا لیا ہے فضائی حملے میں 87 شیعہ شہید
عینی شاہدین نے کہا کہ یمنی فضائیہ نے اس ملک کی شمال میں جنگزدہ علاقے سے دور اہل تشیع کی ایک پرامن اجتماع کو اندھادھند حملوں کا نشانہ بنایا.
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، مڈلايسٹآنلاين نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ یمنی فضائیہ کے ہوائی جہازوں نے "حرف سفیان" کے علاقے میں اہل تشیع کے اجتماع کے ایک مقام پر اندھادھند حملہ کرکے ، 87 افراد کو شہید اور دسیوں دیگر کو زخمی کردیا ہے.
اس رپورٹ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے افراد جنگزدہ علاقوں سے جان بچاکر اس علاقے کے جنگلی حصے میں پناہ لئے ہوئے تھے اور فضائیہ کے افسران کو اس بات کا علم تھا چنانچہ انہوں نے مجاہدین کے خلاف لڑائی میں مسلسل ناکامیوں کے بعد اس علاقے پر اندھادھند بمباری کرکے دسیوں افراد کو شہید کردیا جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی تھی.
دوسری طرف سے یمنی حکمرانوں کو بھی نسل کشی کی اس واردات کی بعد حوثیوں کی انتقامی کاروائی کے پیش نظر تشویش لاحق ہوئی ہے اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ حوثی مجاہدین نے کیا ہے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ الحوثی مجاہدین کے پاس ہوائی جہاز کہاں سے آئی تھے!!! بہرحال یمنی حکمرانوں کے دعوے کے برعکس بمباری کے آثار مٹنے والے نہیں ہیں.
یادرہے کہ سعودی حکمران بھی ـ یمن کی ساتھ اپنے زمینی تنازعات کے باوجود ـ شیعہ نسل کشی میں یمنی حکمرانوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عیدالفطر کی آمد کے ان دنوں میں اس عظیم گناہ اور اس غیرانسانی فعل کی ذمہ داری کس پر ہے؟
قبل ازیں:
شیعہ مجاہدین نے دو شہروں کو آزاد کرالیا
شیعہ مزاحمت کے مجاہدین نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری افواج کو صعدہ کے جنوب میں دو کلیدی شہروں سے پسپائی پر مجبور کرکے ان دو شہروں کو آزاد کرالیا ہے.
اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، زیدی شیعیان اہل بیت (ع) کے قائد "عبدالمالک الحوثی" کے انفارمیشن آفس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ: ان کی جماعت کے مجاہدین نے صعدہ صوبے کے جنوب میں دو کلیدی شہروں "لصفراء" اور "بکیم" کو مکمل طور پر آزاد کرالیا ہے.
اس بیان میں تاکید ہوئی ہے کہ شیعہ مجاہدین نے اب تک "جبل الاسواد" کے علاقے میں سرکاری افواج کے 39 حملے ناکام بنادیئے ہیں اور ان حملوں میں صدارتی گارڈ کے متعدد ماہر فوجیوں کو گرفتار کرلیا ہے.
دوسری طرف سے یمنی افواج نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے صعدہ صوبے میں شہر "دماج" پر مسلط پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا ہے اور الحوثی مجاہدیں کےمتعدد افراد اس حملے میں کام آئے ہیں اور یہ کہ انہوں نے بنی معاد کےعلاقے میں ہتھیاروں سے بھری دو گاڑیاں بھی تباہ کردی ہیں.
زیدیہ اور حکومت یمن کے درمیان لڑائی کا سلسلہ 2004 سے جاری ہے؛ یمنی حکومت کا دعوی ہے کہ حوثی مجاہدین علی عبداللہ صالح کا تختہ الٹ کر یمن میں 1962 میں ختم ہونے والی زیدیہ امامیہ حکومت کے احیاء کی کوشش کررہے ہیں جبکہ شیعہ مجاہدین کا کہنا ہے کہ وہ محض اپنا اور نہتے شہریوں کا دفاع کررہے ہیں.
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زیدی شیعہ یمن کی بیالیس فیصد آبادی زیدی شیعوں پر مشتمل ہے اور غیررسمی اعداد و شمار کے مطابق زیدی شیعہ اس ملک کی اکثریت کو تشکیل دیتے ہیں.
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2004 میں جھڑپوں کے آغاز