3 دسمبر 2020 - 20:20
انگریزی شیعہ کون ہیں؟ چوبیسویں قسط

یہ لوگ سنی مسلمانوں سے بہت مختلف ہیں، ان کی رسومات بھی ان سے مختلف ہیں، "نماز جمعہ شیعوں کے لئے اہل سنت کی طرح اہمیت نہیں رکھتی!!!۔۔۔ اور پھر یہ مرکز نماز جمعہ بپا ہی نہیں کرتا"۔۔۔ ماضی میں ایران میں یہودیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت دوستانہ رہے ہیں اور حالیہ عشروں میں بھی برطانیہ میں بھی ان کے اس رویئے کے برعکس کوئی دوسرا رویہ سامنے نہیں آیا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی" (5)

صہیونی یہودیوں کی ہمہ جہت حمایت!!!
اسرائیل ایڈووکیسی موومنٹ کے کرتے دھرتوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا: آج ہمیں [یعنی ہم صہیونیوں اور شیرازیوں کو] آج ان کے ساتھ باہم گولڈر گرین اسلامی مرکز میں دکھایا گیا۔ ظاہر ہوچکا کہ یہ اصولی طور پر مسجد ہے ہی نہیں؛ یہ ہرگز ایک بڑی مسجد نہیں بلکہ یہ تو مسجد کے برعکس اور اس کے اہداف سے تضاد رکھتا اور Anticlimax ہے اور مسجد کے مقاصد سے انحراف کی عملی تصویر ہے؛ یہ صرف ایک اجتماعی مرکز ہے۔ اس پیج کے فالوورز کے درمیان اس مسئلے پر کافی ساری بحث ہوئی؛ ہم یہ توقع تو نہیں رکھتے کہ یہ مرکز اسرائیل کے لئے کچھ کرے!! لیکن جو کچھ ہم نے منکشف کیا چاہا کہ آپ کو بھی بتا دیں۔۔۔ چنانچہ صہیونی اور یہودی مطمئن رہیں کہ:
- یہ مرکز آیت اللہ شیرازی کا ہے، آیت اللہ خمینی کا نہیں ہے!
- یہ مرکز یوم القدس کی ریلیوں کی حمایت نہیں کرے گا اور یوم القدس کے لئے کچھ بھی نہیں کرے گا!
- جو لوگ تصویروں میں ہمارے ارد گرد دکھائی دیئے، وہ بہت ہی مہربان اور اچھا سلوک روا رکھنے والے تھے۔
- اے وہ یہودیو جو اس کمیونٹی سینٹر کے خلاف تحریک چلاتے رہے ہو، اس مرکز کے بارے میں کچھ کہنے اور فیصلہ کرنے میں جلدبازی سے کام مت لو، خود تحقیق کرو۔
ہم یہودی ـ ان یہودیوں سے، جو کہ شمال مغربی لندن میں رہتے ہیں، ـ کہتے ہیں کہ "یہ لوگ ہمارے پڑوسی ہیں، جبکہ تم میں سے بعض کے خیالات ان کے بارے میں مثبت نہ تھے!"۔
ایک سرگرم یہودی سٹوارٹ لیوی (Stuart Levy) نے لکھا: "حسینیہ رسول اعظم مرکز ایک شیعہ کمیونٹی سینٹر ہے۔ وہ زیادہ تر فارسی بولنے والے ہیں، اور ان کے روحانی راہنما ایران اور عراق کے کے مجتہدوں کے خلاف ہیں!! دوسرے مذاہب کے ساتھ ان کی پرامن بقائے باہمی کی تاریخ بہت مستحکم ہے؛ وہ ایران میں بھی عراق میں بھی اور برطانیہ میں بھی سیاسی اور سیاسی اقتدار سے دور ہیں۔۔۔ انھوں نے حال ہی میں جہادی تنظیموں [حزب اللہ، حماس اور مدافعین حرم] کے خلاف موقف ظاہر کیا ہے"۔
بہت قابل توجہ

"یہ لوگ سنی مسلمانوں سے بہت مختلف ہیں، ان کی رسومات بھی ان سے مختلف ہیں، "نماز جمعہ شیعوں کے لئے اہل سنت کی طرح اہمیت نہیں رکھتی!!!۔۔۔ اور پھر یہ مرکز نماز جمعہ بپا ہی نہیں کرتا"۔۔۔ ماضی میں ایران میں یہودیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت دوستانہ رہے ہیں اور حالیہ عشروں میں بھی برطانیہ میں بھی ان کے اس رویئے کے برعکس کوئی دوسرا رویہ سامنے نہیں آیا ہے اور صہیونیوں کے خلاف ان کے درمیان کسی قسم کا تعصب نہیں پایا گیا ہے۔ چنانچہ ان کے خلاف پٹیشن لکھنا، اور حسینیہ رسول اعظم کے خلاف بدزبانی سے کام لینا، صرف جہل اور خوف کے تناظر میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔ قطعی طور پر دنیا ایک مشکل جگہ ہے، حالیہ برسوں میں یہودیوں کو اذیتناک حالات سے گذرنا پڑا ہے اور یہودیوں کے خلاف بعض دشمنیاں مسلمانوں کے بیچ سے اٹھی ہیں، لیکن سب کو ایک ہی زمرے میں شمار کرنا عقلی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے اور اس طرح کا تصور ہماری کوئی مدد نہیں کرسکے گا۔۔۔ [یہ وہ لوگ نہیں ہیں، اپنے ہیں، انہیں حزب اللہ اور مدافعین حرم کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا]۔
توجہ ؛ مسٹر لیوی نے کچھ دیر بعد ایران کا نام بدل کر لکھا: "مسٹر صادق شیرازی عراقی مجتہدین کے سخت خلاف ہیں ۔۔۔"۔

https://5pillarsuk.com/2017/10/25/zionists-back-golders-green-mosque-after-discovering-it-doesnt-like-iran-and-isnt-obsessed-with-israel/

...............
ابو اسد