اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن میں ایک امام بارگاہ جو یہودیوں کی حمایت سے معرض وجود میں آئی" (3)
چوتھا مرحلہ
خریدنے والوں کو کامیاب ہونا تھا، سو کامیاب ہوگئے
مرکز کے ایک ترجمان نے کہا: "یہ ہمارے لئے ایک بڑی حرکت ہے اور ہمیں بہت خوشی ہے اور ہم بہت جذباتی ہیں کہ ہم گولڈر گرین جیسے متنوع علاقے میں کام کریں... ہم عیسائی گرجاگھروں اور یہودی کنیسوں کے قریب جائیں گے، اور یہاں کے یہودی معاشرے کے ساتھ مضبوط رشتے استوار کریں گے.
اسلامی خیراتی ادارے کے تعلقات عامہ کے سربراہ "احمد الکاظمی" نے "ہام اینڈ ہائی" (Ham & High) نامی انگریزی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: یہ جائیداد ایک نیلامی کے دوران باون لاکھ پچاس ہزار (5250000) پاؤنڈ میں خریدی گئی، ایک خواب تھا جو شرمندہ تعبیر ہؤا".
ان کا کہنا تھا: "گولڈر گرین جیسے علاقے میں اس غیر معمولی عمارت کا حصول شیعہ کمیونٹی (!) کے لئے ایک بڑی تبدیلی ہے. ہم اس سے قبل ایک گودام میں تعینات تھے لیکن اب ہمارے پاس ایک مناسب جگہ ہے جہاں ہم کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرسکتے ہیں".
الکاظمی کا کہنا تھا کہ اس عمارت کے بہت سے پڑوسی پہلے ہی یہاں کاروبار کی رونق اور عمارت سے حاصل ہونے والے اجتماعی احساس سے کافی پرجوش ہیں. ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے مختلف قسم کے پروگراموں کا آغاز کریں اور ایک نرسری اور عربی مدرسہ قائم کریں".
پانچواں مرحلہ؛
یہودی بڑے بوڑھے شیرازی فرقہ مرکز کی وکالت کرتے ہیں
"ابتداء میں گولڈرگرین کے یہودیوں نے کمپین چلا کر اپنے علاقے میں ایک امامبارگاہ بنانے کی مخالفت کی تھی لیکن برطانیہ سرکار بھی اور جانتی تھی اور برطانوی سرکار میں سرگرم عمل یہودی بھی جانتے تھے کہ یہ مرکز مذہب اہل بیت(ع) کی ترجمانی نہیں کرے گا کیونکہ سب کچھ پہلے سے طے پا چکا تھا اور نیلامی میں شیرازی ـ انگریزی فرقے کی جیت بھی اسی سمجھوتے کا نتیجہ تھی. چنانچہ بارنیٹ کونسل نے حتی کہ قانون میں ترمیم کرکے منصوبے کی منظوری دے دی اور جب سب کچھ طے پایا تو مقامی یہودیوں کو یقین دہانیاں کرانے کی باری آئی اور چند ماہ قبل اگرچہ بعض یہودیوں نے بہت حسینیہ رسول الاعظم کے خلاف شور مچایا تھا لیکن "تحریک دفاع اسرائیل (Israel Advocacy Movement) ـ جو ایک خالص یہودی ـ اسرائیلی تنظیم ہے ـ نے اس عمارت میں پہنچ کر اس کا معائنہ کیا اور یہودی کمیونٹی کو یقین دہانی کرائی کہ "یہ حسینیہ کسی صورت میں بھی ایک خطرہ نہیں ہے؛ یہ مسجد نہیں ہے بلکہ مسجد کے خلاف ہے۔ [یہودیوں کو یہ باور کرایا گیا، اگلی سطور کو توجہ سے پڑھیں]
اسرائیل دفاعی تحریک کے بانی جوزف کوہن نے بذات خود جاکر اس عمارت کو دیکھا اور کہا: ہماری صہیونی برادری کو یقین حاصل ہؤا کہ یہ مرکز ایران کی نمائندگی نہیں کرتا، یہ خمینی کے انقلابی تشیّع کی ترجمان نہیں شیرازی تشیّع کی ترجمان ہے، چنانچہ صہیونی کمیونٹی اس مرکز کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
کوہن نے حسینیہ رسول اعظم کے مخالف 6000 یہودیوں سے مخاطب ہوکر کہا: "اس مرکز کا تعلق آیت اللہ شیرازی سے ہے چنانچہ یہاں کام کرنے والے افراد کا یوم قدس کے جلوسوں سے کوئی تعلق نہيں ہے، چنانچہ ہمیں چاہئے کہ انہیں کام کی مکمل آزادی دیں۔ جن لوگوں سے ہم ملے وہ بڑے مثبت اورمہربان تھے اور انھوں نے ہمارا استقبال کیا"۔
کوہن نے حقیقتا یہاں جو زریں جملہ کہا ہے وہ بہت اہم ہے کہ "یہ لوگ "لندنی شیعہ" ہیں ان کہ انقلابی تشیع سے کوئی تعلق نہیں ہے"؛ ایک انگریزی ـ یہودی منصوبہ: متبادل متعارف کرانے کے لئے خمینی کے انقلابی تشیع کے بجائے لندن کا شیرازی تشیع آگے لانا۔
گولدرزگرین کے کنیسے کے یہودی رابی گولڈ اسمتھ (Rabbi Mark Goldsmith)، یہودی اخبار "جیوش کرانیکل" کے سیاسی ایڈیٹرمارکوس ڈیش، جانا پہچانا یہودی پارلیمانی مشیر جے اسٹول اور ہولوکاسٹ میموریل ڈے ٹرسٹ کی سربراہ لارا مارکس (Laura Marks) نے ـ جو انتہاپسند ترین صہیونیوں اور یہودی ریاست کے انتہاپسند ترین حامیوں میں شمار ہوتے ہیں ـ انگریزی فرقے کے منصوبے کے حق میں بہت کچھ کہا اور لکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲