اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، سیکریٹری جنرل النُجَباء شیخ اکرم الکعبی نے کل رات [بدھ 31 اگست 2016 کو] چینل 2 کے پروگرام "گفتگوی ویژہ خبری" [Special News Talk] میں اپنے دورہ ایران کے بارے میں کہا: میرے اس سفر کے مقاصد بہت عظیم تھے، ایران محاذ مزاحمت کا حامی ہے اور میرا فرض بنتا ہے کہ کبھی کبھار ایران کے دورے پر آؤں اور ایرانی قوم، ذمہ دار حکام اور رہبر انقلاب اسلامی کا شکریہ ادا کروں۔
حجتالاسلام والمسلمین اکرم الکعبی نے کہا: میں نے ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں عراق کی تازہ ترین صورت حال کی وضاحت کی اور ان کی نصیحتوں کو سنا۔
انھوں نے عراق میں مزاحمتی تنظیموں کی پوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق میں بہت ساری مقاومتی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جنہوں نے عوامی رضا کار افواج "الحشد الشعبی" کو تشکیل دیا ہے۔
عوامی رضاکار افواج (الحشد الشعبی) کے اس نمایاں کمانڈر نے زور دے کر کہا: عراق میں مزاحمت تنظیموں کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں اور ان میں "النُجَباء"، "عصائب اہل الحق"، "کتاب حزب اللہ" اور "کتائب سیدالشہداء (ع)" شامل ہیں۔
شیخ اکرم الکعبی نے مزید کہا: الحشد الشعبی مراجع تقلید کے فتوی کی بنیاد پر تشکیل پائی، بہت سی عراقی مزاحمتی تحریکیں اور تنظیمیں الحشد الشعبی میں شامل ہیں، جنہیں امریکیوں کے خلاف جنگ کا تجربہ حاصل ہے اور اسی بنا پر زبردست عسکری صلاحیت کی حامل ہیں۔
انھوں نے اپنی پالیسی کو واضح طور پر بیان کرتے ہوئے کہا: اسلامی مقاومت سے وابستہ تنظیموں کو اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت حاصل ہے اور اب تک ان تنظیموں نے داعش کے خلاف لڑائی میں عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت کے سیکریٹری جنرل نے الحشد الشعبی کی قانونی حیثیت بیان کرتے ہوئے کہا: الحشد الشعبی ابتداء ہی سے عراقی وزیر اعظم سے جُڑی ہوئی تھی، اور وزیر اعظم نے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے الحشد الشعبی کی افواج کو قانونی جواز دیا؛ الحشد الشعبی میں شامل ہر تنظیم کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں، اور ان تنظیموں کے مجاہدین عسکری تربیت اور جہادی عقیدے کی بنا پر عراق کی دوسری افواج سے مختلف ہیں۔
الکعبی نے الحشد کی رضا کار افواج کے ادغام کے بارے میں کہا: ان افواج کا ادغام ایک خاص قاعدے کے تحت ہونا چاہئے؛ میرا خیال ہے کہ اگر الحشد الشعبی کی افواج کو اس طرح سے سرکاری افواج میں ضمّ کیا جائے کہ مزاحمت کے مجاہدین کے خاص جذبات اور عقیدہ جہاد ختم ہوکر رہ جائے تو یہ ادغام کا فیصلہ غلط ہوگا۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ شہر موصل کی آزادی کے لئے ہونے والی کاروائی عنقریب شروع ہونے والی ہے، موصل کی لڑائی ایک فیصلہ کن لڑائی ہے، گوکہ میں اس لڑائی کے آغاز کی گھڑی نہیں بتا سکتا، لیکن یہ لڑائی بہت جلد شروع ہونے والی ہے۔
شیخ اکرم الکعبی نے شہر موصل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: موصل عراق کا انتہائی شمالی شہر ہے، اور داعش نے ملک میں تبدیلیوں کے آغاز میں ہی اس شہر پر قبضہ کیا اور بغداد اور کربلا کی سرحدوں تک آن پہنچی۔ اسی وقت سے موصل کی آزادی کے لئے کوششیں شروع ہوئیں لیکن مغربی اور عرب ممالک کے دباؤ اور عراق کے بعض سیاستدانوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے شہر موصل کی آزادی کے لئے مجوزہ کاروائی کو ملتوی کیا گیا۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا: ہمیں یقیں ہے کہ الحشد الشعبی کی افواج کو عراق کی مسلح افواج کے دوش بدوش موصول کی آزآدی کے لئے کی جانی والی کاروائی میں شریک ہونا چاہئے۔ ہماری خواہش ہے کہ اس کامیابی میں حصہ لیں اور جو دشمن موصل کی آزادی کے لئے ہونے والی کاروائی میں الحشد الشعبی کی شرکت کے خلاف ہیں، وہ عراق کی تقسیم کے درپے ہیں۔
انھوں نے مغربی ممالک کی طرف سے اس کاروائی میں الحشد الشعبی کی شرکت کی مخالفت کے محرکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ سمیت مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ الحشد الشعبی موصل کی کاروائی میں شریک ہو، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ موصل میں الحشد الشعبی کی موجودگی ان کے استعماری نقشوں اور سازشوں کو خاک میں ملا دے گی اور انہیں عراق میں ایک پھر دائمی فوجی اڈے قائم کرنے اور عراق کی تقسیم کے لئے سازشیں کرنے کا موقع نہیں دے گی۔
انھوں نے کہا: اسی وقت عراقی فوجیں موصل کے اطراف میں تعینات ہیں جنہوں نے عراق کے شمال میں بعض علاقوں پر قبضہ کیا ہے، بعض ممالک نے ترکی کے اس اقدام کی حمایت کی ہے، اسی بنا پر ہمارا اصرار ہے کہ الحشد الشعبی کی افواج موصل میں تعینات کی جائیں۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا: عراقی وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ الحشد الشعبی موصول کی آزادی کی کاروائی میں شرکت کرے اور ہم بھی اس کاروائی میں شرکت کریں گے۔
انھوں نے موصل کی آزادی کے بعد کے حالات کے بارے میں کہا: ہمیں موصل کی آزادی کے بعد عراق میں سلامتی کے مسائل نیز ثقافتی و تہذیبی اور سیاسی شعبوں میں مسائل کا سامنا ہوگا۔ داعش نے عراق میں بعض افراد کو دھوکا دیا، اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان افراد کو اصل اور حقیقی اسلام سے روشناس کرائیں؛ ہمارا فریضہ ہے کہ موصل کی آزادی کے بعد ان افراد کے عقائد کی تصحیح کریں؛ اور اس سلسلے میں اہل سنت کے علماء اور قبائل کے عمائدین کا فرض یہ ہے کہ حقائق کو اپنے عوام کے لئے واضح کریں۔
عوامی رضاکار فوج (الحشد الشعبی) کے اس سینئر کمانڈر نے کہا: ہم موصل کی آزادی کے بعد سلامتی کے تحفظ کے لئے داعشی دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔ داعش سڑکوں اور بازاروں میں بم دھماکوں کے ذریعے عراق کے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے اور ہمیں عراق میں داعش کی نئی روشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سیکورٹی اقدامات کرنا ہونگے۔
انھوں نے کہا: عراق میں امریکہ کی دراندازی نتیجہ ویرانی کے سوا کچھ بھی نہ تھا، اور امریکہ نے عراق کے سیاسی، ثقافتی اور تعمیر و ترقی کے شعبوں میں عراق کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچائے ہیں، امریکیوں نے عراق میں اپنی کاروائیوں کے آغاز ہی سے کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کی، اور صرف ہمارے ملک کو دہشت گردوں کی جنت میں تبدیل کیا۔
شیخ اکرم الکعبی نے موصل کی آزادی کے لئے لڑی جانے والی جنگ میں امریکیوں کی شرکت کے محرکات بیان کرتے ہوئے کہا: امریکی اس لئے موصل کی جنگ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنے ملک میں صدارتی انتخابات کی آمد پر کہہ سکیں کہ عراق میں وہ کچھ کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ امریکی اس کاروائی میں الحشد الشعبی کی شرکت کے خلاف ہیں اور ہمیں تکریت اور فلوجہ میں بھی امریکی مخالفت کا سامنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی عراق اور شام میں دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے اور یہ حقیقت ہمارے لئے عیاں ہوچکی ہے، اور اس سلسلے میں بہت ساری دستاویزات ہمارے پاس ہیں۔ امریکی سی آئی اے شام میں نورالدین زنگی نامی دہشت گرد ٹولے کی پشت پناہی کرتی ہے حالانکہ اس ٹولے نے حال ہی میں ایک نوعمر [اور بیمار] فلسطینی لڑکے کو کیمروں کے سامنے ذبح کیا۔ امریکہ یہ جانتے ہوئے بھی ـ کہ یہ ٹولہ تکفیری ہے ـ اس کی مدد و حمایت کرتا ہے۔
سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک نے کہا: داعش عراق میں القاعدہ کا تسلسل ہے؛ وہی القاعدہ جس کی بنیاد امریکہ نے رکھی۔ آل سعود خطے میں وہابیت کے عقائد کے بانی اور پرچارک ہیں اور داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے وہابی ـ تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا بانی امریکہ ہے۔ ترک حکومت اور صہیونی ریاست شام کے شمال اور جنوب میں "احرار الشام" سمیت مختلف دہشت گرد ٹولوں کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
انھوں نے کہا: امریکہ کی طرف سے یہ کہنا کہ شام میں بعض مسلح ٹولے اعتدال پسند ہیں، در حقیقت ذرائع ابلاغ کو دھوکا دینے کی کوشش ہے؛ کیونکہ یہاں جبہۃ النصرہ، احرار الشام اور جیش اللاسلام سمیت تمام تر مسلح گروہوں کا عقیدہ داعشیوں ہی کا عقیدہ ہے، ان وہابی گروہوں میں سے کوئی بھی اعتدال پسند نہیں ہے اور سعودیوں کی دولت سے ان دہشت گرد ٹولوں کے لئے ہتھیار خریدے جاتے ہیں۔
شیخ اکرم الکعبی نے عراق میں سعودی سفیر ثامر السبهان کی منفی اور غیر سفارتی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ سعودی حکمرانوں کی حماقت تھی کہ انھوں نے خفیہ اداروں کے ایک ایجنٹ کو سفیر کے عنوان سے عراق میں تعینات کیا۔ یہ شخص سفارتکاری کے لئے عراق میں نہیں آیا ہے، وہ یہاں دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب عراق میں اپنے سفیر کو تبدیل کردے لیکن پھر بھی سیکورٹی ادارے کے کسی شخص کو اس کے متبادل کے طور پر تعینات کرے۔
انھوں نے کہا: سعودی عرب عراق میں، تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہے اور جب سے سعودی سفارتخانہ دوبارہ عراق میں کھل گیا ہے اس کی سرگرمیاں مشکوک چلی آرہی ہیں۔ سعودی سفیر ایک ناپسندیدہ شخصیت [Persona non grata] ہے اور اس کو عراق سے نکالا جانا چاہئے۔ اس شخص نے کئی بار عوامی افواج اور عراق کی سیاسی شخصیات کی توہین کی ہے۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا: سعودی سفیر کے عراق کے داعشی سیاستدانوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور یہ داعشی سیاستدان بھی وزیر اور رکن پارلیمان کی سطح کے افراد ہیں جنہیں عرب اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور یہ ہمارے ملک میں ان ممالک کے اہداف کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔
سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک نے عراق میں ترکی کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ترکی عراق کو للچائی نظروں سے دیکھتا ہے، وہ عراق اور شام میں اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ انقرہ اس سلسلے میں صہیونی ریاست اور امریکہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے تا کہ اپنی پالیسیوں کو خطے میں نافذ کرسکے۔
شیخ اکرم الکعبی نے مزید کہا: ترکی نے عراق اور شام کی درخواست کے بغیر ان ممالک میں اپنے فوجی دستے بھجوا دیئے ہیں، اور ہم ان دستوں کو جارح اور قابض سمجھتے ہیں، اور ترک فوجی دستوں کو شمالی عراق سے نکل جانا چاہئے۔
انھوں نے عراق میں مزاحمتی تنظیموں کی فکری اساس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم مزاحمتی تنظیمیں عراق میں ولایت فقیہ کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔
انھو ںے کہا: اسلامی جموریہ عالمی مستضعفین کو نجات دلانے کے لئے معرض وجود میں آئی ہے۔ ہمیں یقیں ہے کہ ہمارے افکار کو دنیا کے ہر گوشے میں مقبولیت حاصل ہے۔
شیخ اکرم الکعبی نے عراقی وزیر دفاع کی برطرفی کے بارے میں کہا: عراقی وزیر دفاع اس ملک میں ہونے والی فوجی کاروائیوں میں موجود نہیں ہیں، کیونکہ عراق کی مختلف فوجی شعبے اور سیکورٹی افواج کا وزیر دفاع سے کوئی تعلق نہیں ہے اور تمام مسلح افواج کا چیف کمانڈر وزیر اعظم ہے؛ چنانچہ وزیر دفاع کی برطرفی موصل کی آزادی کے لئے ہونے والی کاروائیوں پر اثر انداز نہیں ہوگی۔
عوامی رضاکار فوج (الحشد الشعبی) کے اس سینئر کمانڈر نے محاذ مزاحمت کی کامیابیوں میں رہبر انقلاب اسلامی کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی حکمت اور بصیرت کا بہت گہرا اثر ہمارے عقائد پر پڑا ہے، اور ہم نے ان کی بصیرت کی روشنی میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔
انھوں نے آخر میں کہا: ایران نے عراق میں مزاحمتی تنظیموں کو وسیع امداد فراہم کی تا کہ یہ تنظیمیں اپنے ملک میں دہشت گردوں کا مؤثر مقابلہ کریں۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد و حمایت نہ ہوتی، تو ہمیں اپنے ملک میں بہت ہی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا، اور ہم نے ایران کی مدد سے عراق اور شام میں دہشت گرد ٹولوں کے مقابلے میں عظیم فتوحات رقم کیں۔
ان کا کہنا تھا: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کا کردار عظیم ہے اور ایران کی عظیم ملت عراق سے محبت کرتی ہے۔
.......
/169