اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف تقریر کرنے اور پاکستان مخالف نعرے لگوانے نیز ہنگامے کرانے پر جہاں حکومت اور فوج نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے وہیں اب الطاف حسین نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔
کراچی میں بھوک ہرتالی کیمپ پر بیٹھے متحدہ کے کارکنوں سے اپنے ٹیلی فونی خطاب میں الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے بھی لگوائے اور پھر متحدہ کے کارکنوں نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں پر دھاوا بول دیا- متحدہ کے قائد کے اس قسم کے بیانات پھر اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی کی جانب سے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے دفاتر کو آگ لگائے جانے کے بعد وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائے گا- انہوں نے الطاف حسین کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پاکستان مخالف اشتعال انگیز بیانات سے ان سمیت ہر پاکستانی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں- پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنھوں نے یہ آگ لگائی ہے انھیں ہر قیمت پر پکڑا جائے گا- اس درمیان پاکستان کے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خاں نے الطاف حسین کی، پاکستان مخالف تقریر اور ہجوم کو مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کے لئے اکسانے پر برطانیہ کے اعلی حکام سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ الطاف حسین نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے- انہوں نے کہا کہ برطانوی سرزمین سے پاکستان کی سالمیت کے لئے کیا جانے والا اقدام، قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے شخص کو پاکستان کے حوالے کرنے میں قانونی مدد دے- اس درمیان الطاف حسین نے اپنے پیر کے روز کے بیان پر معافی مانگ لی- معافی نامے میں الطاف حسین نے کہا کہ انہوں نے اپنے ٹیلی فونی خطاب میں جو الفاظ استعمال کئے وہ انتہائی ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت جذبات سے مغلوب ہو کر انھوں نے جو الفاظ ادا کئے وہ ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہئے تھے۔ انہوں نے پاکستانی عوام اور مسلح افواج کے عہدیداروں سے معافی مانگی۔ اس درمیان کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور دیگر تمام دفاتر کو سیل کر دیا گیا-
.....
/169