اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سری نگر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر وادی میں چالیسویں روز بھی ہڑتال رہی ہے اور لوگوں نے اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ کی اپیل پرعمل کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں جلوس بھی نکالے۔ پولیس حکام نے حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمرفاروق کو اس وقت گرفتار کرلیا جب انہوں نے سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر عالمی توجہ دلانے کیلئے حریت رہنماؤں نے بدھ کے روز سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مارچ روکنے کیلئے سری نگرمیں ہندوستانی فوج اور سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اوراقوام متحدہ کے دفتر تک جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ ہندوستانی سیکورٹی فورس کے ہاتھوں کشمیر کی مسلح تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے وادی میں پرتشدد مظاہروں کا سلسل شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ہندوستانی فوج اور پولیس کی فائرنگ میں ستر سے زائد مظاہرین جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد چھرے والی بندوقوں کا نشانہ بن کر اپنی بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲