12 اگست 2016 - 19:14
حکومت آل سعود صیہونی حکومت کےساتھ تعلقات کو مزیدمستحکم کرنے کی خواہاں

ماہرین کا کہنا ہےکہ صیہونی حکومت کے سابق وزیر کے یہ بیانات سعودی عرب اوراسرائیل کےدرمیان خفیہ تعلقات کی تازہ ترین علامت شمار ہوتی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صیہونی روزنامہ یروشلم پوسٹ نے خبردی ہےکہ سینئرصیہونی رکن پارلیمنٹ ’’عساوی فریج ‘‘نے صیہونی ریڈیو کےساتھ انٹرویو میں یہ انکشاف کرتے ہوئے کہ  حکومت آل سعود صیہونی رژیم کےساتھ تعلقات کو مزیدمستحکم کرنے کی خواہاں ہےکہاکہ اسرائیلی وفد کے سعودی عرب دورے سے متعلق سبھی  تیاریوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

انہوں نےکہاکہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والے اسرائیلی وفد میں بائیں بازوکی اہم شخصیات اورسینئرصیہونی رکن پارلیمنٹ شامل ہونگے۔

عساوی فریج کے مطابق سعودی وفد نے تل ابیب کےدورے کے  دوران  اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔

اس سے قبل صیہونی حکومت کےسماجی امور کے سابق وزیر مائیکل ملکویرنے حال ہی میں سعودی جنرل کی قیادت میں اسرائیل کادورہ کرنے والے سعودی عرب کے وفد سے ملاقات کی تھی ۔

انہوں نے مستقبل قریب میں سعودی عرب اوراسرائیل کےتعلقات معمول پرآنے کی خبردی تھی ۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق مائیکل ملکویر نےکہاتھاکہ سعودی عرب کے وفد کےدورہ اسرائیل کے خلاف صرف ایران اورحزب اللہ نے اپنا درعمل ظاہر کیاجبکہ عرب دنیا نے اس دورے کی حمایت یا مخالف کے سلسلے میں کوئی خاص موقف اختیار نہیں کیا۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ صیہونی حکومت کے سابق وزیر کے یہ بیانات سعودی عرب اوراسرائیل کےدرمیان خفیہ تعلقات کی تازہ ترین علامت شمار ہوتی ہیں۔

یاد رہےکہ سعودی عرب کے سابق فوجی جنرل انوراشقی نے کچھ ہفتے قبل ایک وفد کےساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا جس دورانہوں نے صیہونی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی ۔

قابل ذکر ہے کہ عرب  عوام نے سوشل میڈیا پر اس دورے کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

واضح رہےکہ فلسطین کی تحریک مقاومت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے سعودی عرب اوراسرائیل کے عہدیداروں کے درمیان ملاقات پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاتھاکہ صیہونی حکومت کےساتھ تعلقات برقرار کئے جانے کا یہ عمل سعودی عرب کی آل سعود حکومت کی براہ راست میں نگرانی میں انجام پارہا ہے ۔

مقاومتی تحریک نے عرب اقوام ،جماعتوں اورسرگرم گروہوں سے مطالبہ کیاتھاکہ وہ دشمن صیہونی حکومت کےساتھ تعلقات برقرارکرنے جیسی شرمناک پالیسیوں کا ڈٹ کرمقابلہ کریں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲