اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس نے انسانی حقوق کے مسئلے پر امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے ساته ہونے والے جوہری معاہدے کے عمل درآمد پر پابند رہے.
یہ بات اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات روسی سفیر 'لئوان جگریان' نے ارنا کے نمائندے کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہی.
انہوں نے اس انٹریو کے دوران ایران،روس دوطرفہ تعلقات، جوہری معاملے پر باہمی تعاون اور اور تازہ ترین علاقائی صورتحال پر روشنی ڈالی.
روسی خارجہ پالیسی میں ایران کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ روس ایران کے ساته روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کی کوشش ہوگی کے دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑهایا جائے.
روس کے سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک قریب مستقبل میں دوطرفہ تجارت کی سطح میں مزید اضافہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں جس کیلئے دونوں ممالک کے سربراہاں بهی اس اہم مقصد پر زور دیتے ہیں.
ترکی کی صورتحال اور شام کے حوالے سے ترک پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام اور دیگر خطی مسائل پر ترک حکام اپنے مؤقف کو بار بار کہہ چکے ہیں تاہم ابهی ہم روس اور ترک کے سربراہوں کی آئندہ ملاقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں جو روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں کی جائے گی.
ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روس ایرانی حکام کے تحفظات سے آگاہ ہے اور ہم امریکیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے ساته کئے جانے والے وعدوں پر قائم رہیں.
لئوان جگریان نے مزید کہا کہ ایرانی میزائل پروگرام ہرگز جوہری معاہدے اور سلامتی کونسل قرارداد نمبر 2231 کا حصہ نہیں تها.
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے موجودہ تعلقات بہت گہرے ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک اور قریب ہوئے ہیں.
روسی سفیر نے مزید کہا کہ آٹه اگست کو جمہوریہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایران،روس،آذربائیجان کے صدور کے درمیان سہ فریقی نشست منعقد ہوگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲