اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حجة الاسلام والمسلمین قاسم علی نوچمنی نے کہا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام ١۷ربیع الاول ۸۰ھ،ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے تھے اور۲۵شوال ١۴۸ھ ق میں شہادت پا گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ آپ کی والدہ گرامی کی کنیت ام القاسم اوران کا نام قریبہ یا فاطمہ تھا اور خود امام علیہ السلام کی معروف ترین کنیت ابوعبداللہ تھی۔صادق،فاضل اورطاہرآپ کے مشہورترین القاب تھے۔
حجة الاسلام نوچمنی نے امام علیہ السلام کے فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوحنیفہ آپ کےبارے میں واضح کہتے ہیں کہ﴿مارایت افقہ من جعفربن محمد﴾ میں نے جعفربن محمد سے زیادہ اعلم کوئی فقیہ نہیں دیکھا ہے۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ امام جعفرصادق علیہ السلام سے اتنے معارف نقل ہوئے ہیں کہ شیعہ آپ کے نام سےمشہورہو گئےہیں اورآج کہا جاتا ہےکہ شیعہ جعفری؛ کیونکہ شیعہ امامیہ کی فقہ اسلامی کا زیادہ ترحصہ آپ علیہ السلام سے نقل ہوا ہے۔
صاحب الزمان مسجد کےامام جماعت نے کہا ہےکہ امام صادق علیہ السلام کا دورثقافتی اوراعتقادی تحریکوں اورمختلف ادیان ومذاہب کے آپ میں ٹکرانے کا دورتھا اورآپ نے احادیث کو بیان کرنے کے لیےاس موقع سے بھرپوراستفادہ کیا۔ درضمن تحقیقات سےمعلوم ہوتا ہےکہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہونے والی احادیث میں سےاسی فی صد احادیث امام صادق علیہ السلام کی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے معاشرے کی شدید ضرورت اورمناسب سیاسی موقع کے پیش نظر امام باقرعلیہ السلام کی علمی اورثقافتی تحریک کو جاری رکھا اورآپ نے ایک بہت بڑے حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی اور آپ نےمختلف علمی اورنقلی موضوعات میں مفصل بن عمرکوفی جعفری،ہشام بن حکم،ابان بن تغلب ،ہشام بن سالم،محمد بن مسلم ثقفی،مومن طاق اورجابربن حیان جیسےعظیم شاگردوں کی تربیت کی تھی۔
حجة الاسلام نوچمنی نےمزید کہا ہےکہ سدیرصیرفی کہتے ہیں کہ میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں گیا اورعرض کیا کہ اللہ کی قسم یہ مناسب نہیں ہےکہ آپ بیٹھے رہیں اورقیام نہ کریں۔امام علیہ السلام نے فرمایا؛ کیوں؟ میں نےعرض؛ آپ کے دوستوں اورچاہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اللہ کی قسم اگرامیرالمومنین علیہ السلام کےپاس آپ کےساتھیوں جتنی تعداد ہوتی تو قبیلہ تیم اور عدی آپ کا حق چھیننےکی جرات نہ کرے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے شیعوں اورساتھیوں کی تعداد کتنی ہے؟
میں نےعرض کیا؛ ایک لاکھ افراد۔ آپ نے فرمایا؛ ایک لاکھ افراد؟ میں نےعرض کیا؛ جی ہاں۔ بلکہ دو لاکھ افراد۔ امام نے فرمایا؛ دو لاکھ افراد؟ میں نےعرض کیا؛ جی ہاں بلکہ آدھی دنیا آپ کے ساتھی ہیں۔امام علیہ السلام نے تھوڑی دیرخاموش رہ کرفرمایا کہ میرے ساتھ ﴿ینبع﴾ تک آو۔ امام علیہ السلام مجھے ایک ایسےعلاقے میں لے گئےکہ جس کی مٹی سرخ رنگ کی تھی اورمیں نےدیکھا کہ ایک نوجوان گڈریا اپنی بھیڑوں کو چرانے کےلیے لے کرآیا ہوا ہے۔ امام علیہ السلام نے اس ریوڑ کی طرف نگاہ کرتے ہوئےمجھے فرمایا کہ اے سدیر،اللہ کی قسم اگران بھیڑوں کی تعداد جتنے شیعہ اورساتھ ہوتے تو ہمارے لیے مناسب نہیں تھا کہ میں ایک لمحےکے لیے بھی ظالم حکومت کے سامنے خاموش رہتا اوراپنےحق کےلینےکے لیے قیام نہ کرتا۔ ہم نے سواریوں سے اترکرنماز پڑھی ۔بعد کے بعد جب میں نے بھیڑوں کو گنا تو ان کی تعداد فقط سترہ تھی۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ فقہ امام صادق علیہ السلام کی برکت سےاسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں مساجد اوردینی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169