اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مسائل کے ماہرحسن ہانی زادہ نے کہا دہشتگرد گروہ منافقین کے اجتماع میں سعودی شہزادے ترکی الفیصل کو شرکت اور ایران کے خلاف اس کے سخت بیانات کے بارے میں کہا ہے کہ یہ شرکت منافقت اوروہابیت کی شکست کی علامت ہے اورسعودی عرب مشرق وسطیٰ کے حالات کو تبدیل کرنے اورمزاحمتی محاذ پرکاری ضرب لگانے کے لیے تمام مالی،عسکری اورسیاسی وسائل سے استفادہ کررہا ہے لیکن اسے شکست کا سامنا ہے اوراب وہ اس دہشتگرد گروہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔
انہوں نےاس مطلب کہ شام میں سعودی عرب کے۳۶ہزارارب کے اخراجات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک شام،یمن اورعراق میں شکست سے دوچار ہے،کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ حکومت آل سعود اس وقت دہشتگرد تنظیم کا سہارا لے رہا ہے۔
ہانی زادہ نے پیرس میں منافقین کے اجتماع میں ترکی الفیصل کی شرکت کو ایک کھیل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس شرکت کا مقصد ایران کو گوشہ نشین کرنا اوراس پردباو ڈالنا ہے اوراس کے پیچھے کوئی خاص فکرکارفرما نہیں ہے۔
انہوں نےمشرق وسطیٰ میں مزاحمتی تحریکوں کی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب منافقین اورخطے کے دہشتگردوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک محاذ کھولنا چاہتا ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان پہنچا سکے لیکن ابھی تک وہ کامیاب نہیں ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169