12 جولائی 2016 - 08:30
نائب وزیر خارجہ: مشترکہ جامع ایکشن پلان نے ایران کے ایٹمی توانائی کے حق کو ثابت کیا

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے سبب ایران کی ایٹمی توانائی کا حق ثابت ہوا اور اسے استحکام حاصل ہوا -

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سربراہ سید عباس عراقچی نے ایران کے ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عملدرآمد کو چھ ماہ عرصہ گذر چکا ہے اور فریقین نے شائع ہونے والے متن کی بنیاد پر اپنے وعدوں کی پابندی کی ہے اور اسی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد منسوخ اور ایران کے خلاف جعلی کیس کا خاتمہ ہوگیا ہے-

عراقچی نے کہا کہ ایران کے عوام کا اصلی نعرہ اور ان کا مطالبہ ایٹمی توانائی سے استفادے اور یورینئم کی افزودگی کے حق کو ثابت کرنا تھا اور ملت ایران کی استقامت کےباعث اس حق کو پہچانا گیا، اس کی تصدیق کی گئی اور اسے استحکام عطا ہوا- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران کی معیشت کی راہ میں ابھی بھی امریکی پابندیوں جیسی بعض رکاوٹیں حائل ہیں -

عراقچی نے کہا کہ بھاری پانی کی فروخت کی بین الاقوامی منڈیوں میں ایران کو سرکاری حیثیت سے تسلیم کیا جانا بھی مشترکہ جامع ایکشن پلان کی ایک اور کامیابی ہے- انہوں نے کہا کہ مغربی ملکوں نے ایران کے ایٹمی مسئلے سے، میزائل کے پروگرام کو بھی جوڑنے کی کوشش کی لیکن ایران کی مذاکراتی ٹیم نے ایٹمی مذاکرات میں میزائل کے پروگرام کو ایٹمی مسئلے سے جدا کیا-

عراقچی نے کہا کہ ایران کے کسی بھی میزائل کی ڈیزائننگ ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی غرض سے نہیں کی گئی ہے اور ایران کے وزیر خارجہ نے ، میزائل تجربات کے مسئلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی حالیہ رپورٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے- عباس عراقچی نے کہا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی رپورٹ کے ذریعے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو نقصان پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بارے میں بان کی مون پر امریکہ اور مغرب کا دباؤ موثر رہا ہے-

.......

/169