8 جون 2016 - 14:25
امریکہ، اسرائیل اور سعودیہ کے مابین فوجی تعاون کا معاہدہ

اسرائیلی سائٹ "هنا معک دائما" کے مطابق اسرائیل میں بائیں بازو کے ایک لیڈر زہافاجال اون نے اس تعاون کا راز فاش کیا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب میں ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تبوک شہر میں واقع ملک فیصل ایئربیس پر انٹر سپیٹر میزائل کا اعلی درجے کا سسٹم اور جدید راڈار سسٹم نصب کیا جائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں بائیں بازو کے ایک لیڈر زہافاجال اون نے اس تعاون کا راز فاش کیا ہے۔امریکہ اور سعودی عرب میں ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تبوک شہر میں واقع ملک فیصل ایئربیس پر انٹر سپیٹر میزائل کا اعلی درجے کا سسٹم اور جدید راڈار سسٹم نصب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ (20 اپریل/2016) کو امریکی صدر اوباما کے سفر کے بعد طے پایاہے۔

بائیں بازو کے لیڈر نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے کے مطابق اس ایئربیس کا انتظام مشترکہ صورت میں چلایا جائے گا۔اور سعودی شہری اس ایئربیس میں کسی بھی صورت میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔جبکہ ہمارا سعودی حکام کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہمیں صرف سعودی عوام کی شدت پسندانہ افکار کا خوف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے سے حیران ہوئے ہیں اور نیتن یاہو حکومت کی جانب سے ایک غیرسنجیدہ اقدام فرض کرتے ہیں کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کا سیکیورٹی معاہدہ ہمارے افسروں کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اور ممکن ہے انہیں جلد یا بدیر انکی شدت پسندانہ افکار کے جال میں پھنسا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز یہ تھی کہ یہ سسٹم جزیرہ تیران میں نصب کیا جائے لیکن سعودی حکام نے ہماری تجویز مسترد کردی اور اسی وجہ سے شہر تبوک میں یہ سسٹم نصب کیا جائے گا۔

.......

/169